امید ہے کہ شرم الشیخ کانفرنس غزہ کی جنگ کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہو گی : سعودی کابینہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سعودی کابینہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ مصر کی میزبانی میں منعقد ہونے والی “شرم الشیخ امن کانفرنس” غزہ کی جنگ کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہو گی۔
عالمی میڈیا کے مطابق سعودی کابینہ کا اجلاس آج ریاض میں مملکت کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کابینہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ مصر کی میزبانی میں منعقد ہونے والی “شرم الشیخ امن کانفرنس” کے نتائج غزہ پٹی میں جاری جنگ کے خاتمے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کو تقویت دینے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔
کابینہ نے اس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطینی عوام کی انسانی مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور اسرائیلی انخلا مکمل طور پر عمل میں لایا جائے۔ مزید یہ کہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ و جامع امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات شروع کیے جائیں تاکہ 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔
سعودی کابینہ نے سوڈان میں جاری جنگ کے فوری خاتمے، اس کی وحدت اور قومی اداروں کے تحفظ، اور اس ملک و عوام کو مزید تباہی اور تکالیف سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا۔ کابینہ نے یہ بھی کہا کہ گیارہ مئی 2023 کے “جدہ اعلامیے” میں طے پانے والے نکات پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔
وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے اجلاس کے بعد سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایا کہ کابینہ نے وہ پیغام ملاحظہ کیا جو شاہ سلمان اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے مراکش کے بادشاہ محمد السادس کو بھیجا تھا۔ اسی طرح کابینہ کو اس ٹیلیفونک گفتگو کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جو ولی عہد کو اردن کے بادشاہ عبداللہ الثانی کی طرف سے موصول ہوئی۔
اجلاس میں سعودی عرب اور مختلف برادر و دوست ممالک کے درمیان قائم مشترکہ کمیٹیوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے ان دوطرفہ منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا جن کا مقصد باہمی تعلقات کو مضبوط بنانا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا ہے، تاکہ مشترکہ مفادات اور فوائد حاصل کیے جا سکیں۔
کابینہ نے سعودی عرب میں حال ہی میں ہونے والی مختلف بین الاقوامی ملاقاتوں اور کانفرنسوں کے نتائج پر بھی روشنی ڈالی اور “حج، عمرہ اور زیارت پر تحقیقی مطالعات کے پچیسویں علمی اجلاس” کی کامیابی کو سراہا۔ یہ اجلاس خادمِ حرمین شریفین کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔ کابینہ نے کہا کہ اس اجلاس میں پیش کی جانے والی نئی تجاویز زائرینِ بیت اللہ کے لیے خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔
کابینہ نے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا میں “اثاثے واپس لانے کے لیے علاقائی نیٹ ورک” کے قیام کو ایک عملی قدم قرار دیا، جو بد عنوانی اور منی لانڈرنگ کے خلاف خطے کے ممالک کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
کابینہ نے سعودی سائنس دان پروفیسر عمر بن مونس یاغی کو کیمیاء کے شعبے میں 2025 کا نوبل انعام حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ پروفیسر یاغی “شاہ عبدالعزیز سٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی” اور “یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے” کے مشترکہ تحقیقی مرکز کے سربراہ ہیں۔ کابینہ نے کہا کہ یہ کامیابی مملکت کی جانب سے تحقیق، ترقی اور جدت کے میدان میں فراہم کیے جانے والے سرکاری تعاون اور سائنس دانوں و محققین کی سرپرستی کا مظہر ہے۔
آخر میں، کابینہ نے اپنے ایجنڈے میں شامل متعدد امور پر غور کیا … جن میں وہ موضوعات بھی شامل تھے جن پر مجلسِ شوریٰ نے مشترکہ طور پر کام کیا تھا۔ کابینہ نے سیاسی، سلامتی، اقتصادی و ترقیاتی امور کی کونسلوں، کابینہ کی عام کمیٹی اور ماہرین کے کمیشن کی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد کئی فیصلے منظور کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں مدد گار ثابت ہو سعودی کابینہ کابینہ نے جنگ کے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔