حماس نے 4اسرائیل نے 45لاشیں حوالے کردیں،امن معاہدے کے بعد بھی 9فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ /مقبوضہ بیت المقدس /بارسلونا(مانیٹرنگ ڈیسک ) فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے جنگ بندی معاہدے کے تحت 20 یرغمالیوں کی رہائی کے بعد 4 مغویوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کردیں۔ حماس نے چاروں مغویوں کی لاشوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے ذریعے اسرائیلی کے حوالے کیں۔حماس کا کہنا ہے کہ باقی 24 لاشوں کو نکالنے میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ تدفین کے تمام مقامات کا علم نہیں۔دوسری جانب غزہ کے ناصر میڈیکل سینٹر نے بتایا کہ تبادلہ معاہدے کے تحت ہمیں ریڈ کراس کے ذریعے 45 فلسطینی شہداء کی لاشیں موصول ہوئیں جنہیں اسرائیل نے قتل کیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ حماس کی جانب سے واپس کی گئی 4یرغمالیوں کی لاشوں کے بدلے 45 فلسطینیوں کی میتیں غزہ بھیج دی ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کے پاس اب بھی 24 یرغمالیوں کی لاشیں موجود ہیں، جن کی واپسی آئندہ مراحل میں متوقع ہے۔یاد رہے کہ یہ عمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پائے گئے جنگ بندی فارمولا کا حصہ ہے، جس کے تحت ہر ایک اسرائیلی لاش کے بدلے 15 فلسطینی لاشیں واپس کی جاتی ہیں۔ادھر جنگ بندی امن معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے حملے جاری رکھتے ہوئے مزید 9فلسطینیوں کو شہید کردیا۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وفا‘ نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں رات بھر چھاپے مارے جن میں رام اللہ، البیرہ اور الخلیل (ہیبرون) کے کئی محلے اور دیہات شامل تھے۔رام اللہ کے عین منجد محلے میں اسرائیلی فوج نے حال ہی میں رہا ہو کر غزہ بھیجے گئے عصام الفروخ کے گھر پر دھاوا بولا اور گھر کی تلاشی لی۔رام اللہ کے مغرب میں واقع گاؤں دیر ابزیع میں کم از کم 7 گھروں پر چھاپے مارے گئے اور رہائشیوں سے موقع پر ہی پوچھ گچھ کی گئی، اسرائیلی افواج نے عین عریق اور نعلین کے علاقوں میں بھی داخل ہو کر کارروائیاں کیں۔اسی دوران یہودی آبادکاروں نے رام اللہ کے مشرق میں واقع بیتین قصبے میں ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔جنوبی مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج نے ادھنا اور الکوم کے قصبوں پر بھی چھاپے مارے اور دو گھروں کو فوجی بیرکوں میں تبدیل کر دیا۔ اس سے قبل اطلاع دی گئی تھی کہ اسرائیلی افواج نے طولکرم اور مشرقی یروشلم کے قریب العیساویہ میں فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 2 افراد زخمی اور کئی دیگر گرفتار ہوئے۔اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی علاقے فرانچیسکا البنیز نے تشویش ظاہر کی ہے کہ اسرائیلی افواج، مقبوضہ مغربی کنارے میں قیدیوں کی رہائی کی خوشی منانے پر لوگوں پر پابندی لگا رہی ہیں۔انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ اسے امن کہتے ہیں، مگر فلسطینیوں کے لیے یہ بدترین نسل پرستی ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ دنیا کے لوگو! اب نظریں مت ہٹانا، تمام نگاہیں فلسطین پر رہنی چاہئیں۔رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی جیلوں میں انہیں مارا پیٹا گیا اور ذلیل کیا گیا، ایک سابق قیدی نے اسرائیل کی ’عوفر جیل‘ کو ’ذبح خانہ‘ قرار دیا۔اسرائیلی جیل میں 20 ماہ قید کے بعد گزشتہ روز رہا ہونے والے غزہ کے فوٹو جرنلسٹ شادی ابو سیدو نے قید کے دوران ہونے والے سنگین مظالم اور اذیت ناک حالات کی تفصیل بیان کردی۔ابو سیدو کے مطابق اسرائیلی قید خانوں میں قیدیوں کو ناقابلِ بیان تشدد، بھوک اور نفسیاتی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔شادی ابو سیدو نے بتایا کہ جیل میں اسرائیلی فوجیوں نے انہیں بتایا کہ ‘ہم نے تمہارے بچوں کو مار دیاہے، غزہ ختم ہو گیا ہے۔غزہ پہنچنے پر شادی ابو سیدو کو خبر ملی کے ان کے بچے اور خاندان کے دیگر افراد خیریت سے ہیں، اپنے گھر پہنچ کر جب انہوں نے اپنے بچوں کو دیکھا تو سکتے میں آگئے۔انہوں نے کہا کہ ہم روز ایک بار نہیں، ہزار بار مرتے تھے۔ ہمیں نیند اور کھانے کا ذائقہ تک بھلا دیا گیا، رات کے وقت ہم پر پانی پھینک کر تشدد کیا جاتا تھا اور ہر ممکن طریقے سے اذیت دی جاتی تھی۔ابو سیدو نے کہا کہ میں دو سال بھوکا رہا، بھوکا ہی جیل میں گیا اور بھوکا ہی جیل سے رہا ہوا۔ رہائی کے بعد جب ابو سیدو واپس غزہ پہنچے تو تباہی دیکھ کر وہ سکتے میں آ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں غزہ میں داخل ہوا تو لگا جیسے یہ قیامت کا منظر ہو، یہ وہ غزہ نہیں رہا جسے میں جانتا تھا‘۔شادی ابو سیدو کو مارچ 2024ء میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اسرائیلی افواج نے غزہ شہر کے الشفا اسپتال پر حملہ کیا تھا اور متعدد مریضوں، طبی عملے کے ارکان اور شہریوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ابو سیدو نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ دیگر تمام فلسطینی قیدیوں کی فوری رہائی کے لیے اقدام کرے جو اب بھی اسرائیلی قید میں اذیتیں برداشت کر رہے ہیں۔ فلسطین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں 10 سے زاید افراد اب بھی غیر قانونی طور پر قید ہیں۔فلسطینی حکام کے مطابق غزہ میں گزشتہ روز قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے باوجود 10 ہزار سے زیادہ فلسطینی اب بھی اسرائیل میں غیر قانونی طور پر قید ہیں۔ اسرائیل نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود اعلان کیا ہے کہ رفح کراسنگ کو بند رکھا جائے گا اور غزہ جانے والی امداد کو کم کیا جائے گا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک حماس تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہیں کرتی۔علاوہ ازیں بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کر اس کا کہنا ہے کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد کی ترسیل ابھی تک شروع نہیں ہو سکی ہے۔ مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ سے تمام 20 اسرائیلی یرغمالی واپس آچکے ہیں، اب امن معاہدے کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے تاہم وعدے کے برخلاف ہلاک اسرائیلوں کی لاشیں واپس نہیں کی گئیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ تمام 20 یرغمالی واپس آچکے ہیں اور وہ حالات کو بہتر محسوس کر رہے ہیں،ایک بڑا بوجھ ہٹ گیا ہے لیکن کام ابھی مکمل نہیں ہوا کیونکہ وعدے کے برعکس ہلاک اسرائیلیوں کی لاشیں واپس نہیں کی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ دوسرا مرحلہ ابھی سے شروع ہوتا ہے۔ دریں اثناء ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا کہ اسے اپنے ہتھیار ڈالنے ہوں گے ورنہ ہم انہیں غیر مسلح کر دیں گے، یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل اور غزہ کے مستقبل کے حوالے سے بڑے سوالات اب بھی موجود ہیں۔ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ارجنٹائن کے صدر جویئر میلی کے ساتھ ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں گے، اور اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا، تو ہم انہیں غیر مسلح کر دیں گے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ یہ کیسے کریں گے، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’مجھے یہ آپ کو سمجھانے کی ضرورت نہیں، لیکن اگر وہ غیر مسلح نہیں ہوئے، تو ہم انہیں غیر مسلح کر دیں گے، انہیں پتا ہے کہ میں مذاق نہیں کر رہا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ عمل ’تیزی سے اور شاید طاقت کے استعمال کے ذریعے ہو سکتا ہے۔جب ان سے غیر مسلح کرنے کے لیے وقت کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک مناسب عرصے میں یہ بہت جلد ہو گا مگر کوئی مخصوص مدت نہیں بتائی۔اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے بعد ان کا ملک فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والی امن کانفرنس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہوگیا تو اٹلی کی جانب سے فلسطین کی تسلیم شدگی یقینی طور پر قریب ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اٹلی فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے اور غزہ کے عوام کے لیے انسانی امداد جاری رکھے گا۔اطالوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ان کا ملک غزہ میں استحکام لانے کے لیے عملی تعاون کرنے کو تیار ہے حتیٰ کہ اگر اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے تحت ضرورت پڑی تو اطالوی کارابینیری فورس کو بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔ ادھر حماس کی سخت مخالفت کے باوجود فلسطینی اتھارٹی نے ٹونی بلیئر کو غزہ منصوبے کے لیے قبول کرلیا۔ رپورٹ کے مطابق ٹونی بلیئر نے فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر حسین الشیخ سے عمان میں ملاقات کی۔ جس میں جنگ کے بعد کے حالات، جنگ بندی کے قیام، قیدیوں کی رہائی اور امداد کی ترسیل پر بات چیت کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی افواج نے اسرائیلی فوج نے انہوں نے کہا کہ یرغمالیوں کی کہ اسرائیلی لاشیں واپس معاہدے کے کے باوجود رام اللہ کی لاشیں کے مطابق کا کہنا کے بعد کی گئی کے لیے کے تحت دیں گے اب بھی غزہ کے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔