ملاکنڈ؛ خانہ بدوشوں کا ٹرک الٹنے سے خواتین و بچوں سمیت 15 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک)ملاکنڈ میں خانہ بدوشوں کا ٹرک الٹنے سے خواتین و بچوں سمیت 15 افراد جاں بحق ہو گئے۔
نجی ٹی وی کے مطابق سوات موٹروے ٹنل کے قریب پیش آنے والے المناک حادثے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے ۔ حادثے میں 10 افراد شدید زخمی بھی ہوئے۔
ریسکیو 1122 ملاکنڈ کے مطابق خوفناک حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ حادثہ سوات موٹروے کے ٹنل نمبر 3 کے قریب پیش آیا، جہاں ٹرک تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہوکر کھائی میں جاگرا۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکار اور موٹروے پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ تمام زخمیوں اور لاشوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال بٹخیلہ منتقل کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے تمام افراد خانہ بدوش ہیں اور ان کا تعلق سوات کی تحصیل بحرین سے ہے۔ پولیس کا ابتدائی طور پر کہنا ہے کہ حادثہ بظاہر تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، تاہم وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خوزستان رہا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ ہرمزگان اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان سامنے آیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس وقت بھی 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کی مزید سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکا کی جانب سے ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔