پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کو پائیدار، جامع اور ماحولیاتی لحاظ سے مضبوط اقدامات کے ذریعے آگے بڑھانے کی بڑی پیش رفت کے طور پر، سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے قومی ترقی کے اہم شعبوں میں 18 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان میں سے 35 ارب 40 کروڑ روپے مالیت کے 12 منصوبے سی ڈی ڈبلیو پی کی سطح پر منظور کیے گئے ہیں، جب کہ 6 منصوبوں کی لاگت 280 ارب 20 کروڑ روپے ہے، جنہیں ایکنک (ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل) کو منظوری کے لیے بھجوایا گیا ہے۔

ایجنڈے میں خوراک و زراعت، طرزِ حکمرانی، صحت، اعلیٰ تعلیم، رہائش، سماجی بہبود، توانائی، ٹرانسپورٹ اور آبی وسائل سے متعلق منصوبے شامل تھے۔

زراعت کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور خوراک کے تحفظ کی بنیاد قرار دیتے ہوئے سی ڈی ڈبلیو پی نے اس مقصد کے لیے پنجاب ریزیلیئنٹ اینڈ انکلیوسِو ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن (پی آر آئی اے ٹی) نامی فلیگ شپ منصوبے کو 68 ارب 67 کروڑ روپے لاگت کے ساتھ ایکنک کو بھیجنے کی منظوری دی۔

یہ منصوبہ ورلڈ بینک اور حکومتِ پنجاب کے اشتراک سے مالی معاونت کے تحت چلایا جائے گا جس کا مقصد موسمیاتی لحاظ سے مضبوط اور کمیونٹی پر مبنی جدید زراعت کو فروغ دینا ہے۔

7 ارب 35 کروڑ روپے مالیت کا جانوروں کی بیماریوں کی نگرانی اور کنٹرول کا پروگرام منظور کر لیا گیا تاکہ پاکستان کو بین الاقوامی صحت کے معیار پر پورا اترنے اور مویشیوں کی برآمدات کو فروغ دینے میں مدد مل سکے۔

مزید برآں پنجاب کلائمٹ ریزیلیئنٹ اینڈ لو کاربن ایگریکلچر مکینائزیشن پروجیکٹ (پی-سی ایل اے ایم پی) ایکنک کو ارسال کر دیا گیا، جس کی مالیت 36 ارب 12 کروڑ روپے ہے اور یہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی مالی معاونت سے چلایا جائے گا۔

حکمرانی میں اصلاحات کے ایجنڈے کے تحت پنجاب ریسورس امپروومنٹ اینڈ ڈیجیٹل ایفیکٹیونس (پی آر آئی ڈی ای) پروگرام کو بھی منظور کرلیا گیا، جس کی مالیت 3 ارب 8 کروڑ روپے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کروڑ روپے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف