سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والے 2 روزہ جوائے فورم 2025 کے ساتھ جاری نمائش دنیا بھر کی بڑی اور بااثر بین الاقوامی کمپنیوں و اداروں کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم بن گئی ہے، جہاں انٹرٹینمنٹ، گیمز، کھیل، میڈیا، ٹیکنالوجی، فلم و میوزک پروڈکشن اور تفریحی مقامات کی ترقی سے وابستہ ادارے ایک چھت تلے جمع ہیں۔

یہ نمائش سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے عالمی وقار کی عکاسی کرتی ہے جو اب دنیا کی ان کمپنیوں کے لیے ایک مرکز بن چکا ہے جو تفریحی صنعت کے مستقبل کو تشکیل دے رہی ہیں۔

جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی (GEA) نمائش میں بطور انٹرٹینمنٹ سیکٹر کی انیبلر اور ریگولیٹر شریک ہے۔ GEA کا کردار سرمایہ کاری کو فروغ دینا، لائسنسنگ کے عمل کو آسان بنانا، شراکت داریوں کی حوصلہ افزائی اور قومی ٹیلنٹ کو بااختیار بنانا ہے، تاکہ سعودی عرب میں تفریحی صنعت کو عالمی سطح پر ترقی دی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے ریاض میں جوائے فورم 2025:  عالمی کاروباری رہنماؤں گیری وینرچک اور ڈیمَنڈ جان نے کامیابی کے راز بتا دیے

نمائش میں دنیا بھر کی 20 سے زائد سرکردہ انٹرٹینمنٹ اور کنٹینٹ کمپنیوں نے شرکت کی۔ ان میں جنوبی کوریا کی معروف کمپنیاں CJ ENM (ٹی وی و فلم پروڈکشن)، Kakao Entertainment (میوزک، ڈرامہ اور ٹیلنٹ مینجمنٹ) اور BH Entertainment شامل ہیں، جو ڈرامہ پروڈکشن اور ٹیلنٹ ڈیویلپمنٹ کے لیے شہرت رکھتی ہیں۔

ایشیا کی نمائندگی مزید مضبوط ہوئی جب گیمز اور انٹرایکٹو انٹرٹینمنٹ کی عالمی دیوہیکل کمپنیاں Nintendo، SEGA اور Bandai Namco بھی نمائش کا حصہ بنیں۔ یہ کمپنیاں سعودی مارکیٹ کو مستقبل کے لیے ایک اہم مرکز قرار دے رہی ہیں۔

کھیلوں کے شعبے میں بھی عالمی ادارے نمایاں ہیں جن میں LaLiga (اسپینش فٹبال لیگ)، UFC (مکسڈ مارشل آرٹس)، WWE (اسپورٹس انٹرٹینمنٹ ریسلنگ) اور DAZN (لائیو اسپورٹس اسٹریمِنگ پلیٹ فارم) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ United Parks & Resorts نے دنیا بھر میں تفریحی مقامات اور تھیم پارکس کے آپریشن کے اپنے تجربات پیش کیے۔

نمائش میں Europa-Park (یورپ کے معروف تھیم پارکس میں سے ایک)، Six Flags Qiddiya (ریاض کے مغرب میں تعمیر ہونے والا عالمی معیار کا نیا تفریحی منصوبہ) اور Qiddiya جیسے بڑے تفریحی منصوبے خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

علاقائی اور مقامی سطح پر سعودی کمپنیوں Sela اور Benchmark نے بڑے لائیو ایونٹس اور کنسرٹس کے میدان میں اپنی صلاحیتیں پیش کیں، جبکہ Manga Productions سعودی عرب میں اینیمیشن، گیمز اور کامکس کی کامیاب مثال کے طور پر نمایاں رہی۔

BigTime Al-Hisan Studios بھی GEA اور Riyadh Season کے تعاون سے قائم ہونے والے مقامی پروڈکشن ہاؤس کے طور پر تیزی سے ابھرتا ہوا ادارہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے جوائے فورم 2025 ریاض: تفریح، ٹیکنالوجی اور تخلیق کا عالمی سنگم

میڈیا، براڈکاسٹنگ اور آڈیو ویژول کنٹینٹ کے شعبے میں MBC Group، Rotana، Warner Music Group اور Snapchat شامل ہیں، جو کمیونیکیشن اور آگمینٹڈ ریئلٹی کے جدید حل فراہم کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ WeBook (ٹکٹنگ سروسز) اور Dark Horse Comics (امریکی کامک پبلشر) بھی شریک ہیں۔

نمائش میں فلم پروڈکشن اور انوویشن کے میدان میں بھی گہری توجہ دی گئی، جہاں دنیا کی معروف کمپنی ARRI (سنیما کیمروں اور امیجنگ ٹیکنالوجیز کی عالمی رہنما) نے اپنی جدید مصنوعات پیش کیں۔

یہ نمائش مستقبل کے مواقع، شراکت داریوں اور جدید منصوبوں کے آغاز کے لیے ایک عالمی سنگ میل ثابت ہو رہی ہے، جہاں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے ایگزیکٹوز، تخلیق کار، ماہرین اور فیصلہ ساز موجود ہیں۔

برانڈز کی نمائش کے ساتھ ساتھ، یہ ایونٹ انٹرایکٹو تجربات، آپریشنل ماڈلز، ٹیکنالوجی پر مبنی حل اور مستقبل کے تفریحی منظرنامے کی عملی جھلک بھی پیش کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جوائے فورم 2025 ریاض سعودی عرب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جوائے فورم 2025 ریاض سعودی عرب جوائے فورم 2025 کے لیے ایک مستقبل کے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم