سونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت آج بھی کم
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
کراچی:
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت آج بھی کم ہو گئی۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں آج 17 ڈالر کی کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4 ہزار 235 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی۔
اسی طرح کاروباری ہفتے کے پہلے ہی دن عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں ایک ہزار 400 روپے کی کمی ہونے سے نئی قیمت 4 لاکھ 44 ہزار 900 روپے فی تولہ ہو گئی۔
مقامی سطح پر فی 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی ایک ہزار 200 روپے کی کمی واقع ہوئی، جس سے نئی قیمت 3 لاکھ 81 ہزار 430 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
واضح رہے کہ ہفتے کے روز بھی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی واقع ہوئی تھی اور سونا اچانک 106 ڈالر فی اونس کم ہوکر 4252 ڈالر کی سطح پر آ گیا تھا، جس کے نتیجے میں ملکی سطح پر سونا 10 ہزار 600 روپے سستا ہوکر 4 لاکھ 46 ہزار 300 روپے فی تولہ پر پہنچ گیا تھا۔
سونے کی قیمت میں اس بڑی کمی سے ایک روز قبل جمعہ کے روزتاریخ کا سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ ہوا تھا، جس کے مطابق سونا عالمی مارکیٹ میں 141 ڈالر کے اضافے سے 4358 ڈالر فی اونس اور مقامی مارکیٹوں میں 14 ہزار 100 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 56 ہزار 900 روپے فی تولہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت کی سطح پر فی اونس فی تولہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان