وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے صوبے میں ایک دفعہ پھر دہشتگردی آئی ہے جب کہ وفاقی حکومت ہمیں وار آن ٹیرر کے فنڈز سمیت دیگر آئینی حقوق نہیں دے رہی ہے۔

نومنتخب وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت پہلا باضابطہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ پر پیشرفت اور امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ کیا گیا، اجلاس میں انسداد بدعنوانی سے متعلق معاملات پر بھی غوروخوض کیا گیا۔

متعلقہ حکام کی طرف سے وزیر اعلی کو صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی گئی۔

وزیر اعلی کو صوبے میں امن و امان کی  صورتحال، دہشتگردی کے واقعات اور عوامل، امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے صوبائی کے اقدامات، پراونشل ایکشن پلان پر عملدرآمد،  آئندہ کے لائحہ عمل، پولیس کو مستحکم بنانے کے لئے اقدامات اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

سہیل آفریدی  نے کہا کہ 8 فروری 2024 کو خیبر پختونخوا میں بھی عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی، میں صوبے کی بیوروکریسی اور پولیس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں پریشر کے باوجود صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کا تحفظ کیا، صوبے کی بیوروکریسی نے صوبے کی مخصوص روایات اور اقدار کا خیال رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ  امید ہے وہ آئندہ بھی صوبے کے روایات کو برقرار رکھیں گے، لیکن بدقسمتی سے بعض سرکاری لوگوں نے پریشر برداشت نہیں کئے اور عوام کے مینڈیٹ کا تحفظ نہیں کیا، گذشتہ عام انتخابات میں جو سرکاری حکام نے عوام کے ساتھ کھڑے ہوئے انہیں ہم ریوارڈ دیں گے۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جن لوگوں نے عوام کا ساتھ نہیں دیا ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، چیف سیکرٹری کو ہدایت کرتا ہوں ایسے تمام لوگوں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور عمران خان پارٹی کے تا حیات چئیرمین ہیں، جس بھی پارٹی کی حکومت ہو اس کے ایجنڈے پر عملدرآمد سرکاری مشینری کا کام ہے۔

وزیر اعلی نے کہا کہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہماری پارٹی کا سب سے اہم ایجنڈا ہے، کسی کو بھی کسی بھی قسم کے کرپشن کی اجازت نہیں ہوگی، جو کرپشن کرے گا اس کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازم اور ہم سب عوام کے خادم ہیں،  ہم اپنے عہدوں پر عوام کی خدمت کے لئے بیٹھے ہیں، اگر کسی سرکاری ملازم سے عوام مطمئن نہیں ہونگے تو وہ اپنے عہدے پر نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں روایتی انداز میں کام کرنے کے لئے نہیں آیا، روایتی انداز سے ہٹ کر کام کرنا ہوگا، ہم نے ایسے کام کرنے ہیں جسے عوام کو احساس ہو کہ انہوں نے صحیح تبدیلی کے لئے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے۔

سہیل آفریدی  نے کہا کہ ضم اضلاع کے لئے ٹرائبل میڈیکل کالج اور ٹرائبل یونیورسٹی آف ماڈرن سائنسز کے قیام کا اعلان کرتا ہوں، تمام ضم اضلاع میں ان اداروں کے کیمپیسز قائم کئے جائیں گے، تمام ضم اضلاع میں تحصیل کی سطح پر پلے گراونڈز کی تعمیر کا اعلان کرتا ہوں۔

وزیر اعلی نے کہا کہ ضم اضلاع کے لئے سیف سٹی پراجیکٹ کا اعلان کرتا ہوں، شہید ارشد شریف کے نام سے یونیورسٹی آف انوسیٹیگیٹیو اینڈ ماڈرن جرنلزم کے قیام کا اعلان کرتا ہوں، پشاور شہر کی بحالی و ترقی کے لئے ریوایویل پلان کا بھی اعلان کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ای پیڈ سسٹم کو صوبائی حکومت کے ای ٹینڈرنگ سسٹم سے ہم آہنگ کیا جائے، خیبر پختونخوا کا اپنا ایک مخصوص سیاسی کلچر ہے ہم اسے خراب نہیں ہونے دیں گے۔

وزیر اعلیٰ  نے کہا کہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے صوبے میں ایک دفعہ پھر دہشتگردی آئی ہے، وفاقی حکومت ہمیں وار آن ٹیرر کے فنڈز سمیت دیگر آئینی حقوق نہیں دے رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاق کو ہماری قربانیوں کا احساس کرکے ہمیں ہمارے فنڈز بروقت جاری کرنے چاہئے، ہمیں ہمارے فنڈز ملیں گے تو ہم پولیس کو مضبوط کر سکیں گے اور دہشتگردی کا مقابلہ کر سکیں گے۔

سہیل آفریدی  نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے پولیس کے لئے جو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی ہے وہ ناقص اور پرانی ہیں، یہ کے پی پولیس کی تضحیک ہے، ان گاڑیوں کو واپس کیا جائے، صوبے کے سابقہ وزرائے اعلی سے لی گئی سکیورٹی انہیں واپس کی جائے تاکہ ان کا تحفظ اور تکریم یقینی ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا اعلان کرتا ہوں ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی وفاقی حکومت وزیر اعلی نے کہا کہ ضم اضلاع عوام کے کے خلاف کے لئے

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل