پیپلزپارٹی کا آزاد کشمیر کے مختلف گروپس سے نئی حکومت سازی بارے مذاکرات کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
ذرائع کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی سی ای سی پہلے ہی آزاد کشمیر میں مجوزہ حکومت سازی پلان کی توثیق کر چکی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کےمختلف گروپس سے رابطوں کا فیصلہ کر لیا۔باوثوق ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے اہم رہنما رواں ہفتے اسلام آباد جائیں گی، پیپلز پارٹی قیادت آزاد کشمیر کے مختلف گروپس کے ساتھ مجوزہ نئی حکومت سازی کے فارمولے پر بات کرے گی، اسلام آباد میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی ارکان کا بھی اجلاس ہو گا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی سی ای سی پہلے ہی آزاد کشمیر میں مجوزہ حکومت سازی پلان کی توثیق کر چکی ہے، پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے آزاد کشمیر میں وزارت عظمی کے لیے انتخاب کرے گی۔ دوسری جانب ذرائع کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ پیپلز پارٹی اعلیٰ قیادت، نواز لیگ کے ساتھ آزاد کشمیر اسمبلی کی مدت، الیکشن اور دیگر آئینی امور پر بات چیت کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی حکومت سازی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔