اسٹیل ٹاؤن کے فارم ہاؤس میں ڈکیت گروہ کی واردات، لاکھوں روپے مالیت کے 46 بکرے لے گئے
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
شہر قائد کے علاقے اسٹیل ٹاؤن میں لنک روڈ کے قریب فارم ہاؤس پر مسلح افراد نے دھاوا بولا اور لاکھوں روپے مالیت کے 46 مہنگے ترین بکرے چھین کر فرار ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسٹیل ٹاؤن کے علاقے ایم ڈی اے سوسائٹی لنک روڈ کے قریب فارم پر مسلح ڈاکوؤں نے دھاوا بول کر عملے کو یرغمال بنا کر بھاری مالیت کے 46 بکرے اور بکریاں چھین کر اپنے ہمراہ لائے ہوئے ٹرک پر لاد کر فرار ہوگئے۔
فارم ہاؤس کے مالک شیخ علی نے ایکسپریس کو بتایا کہ واردات 20 اکتوبر بروز پیر کی رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ہوئی، ڈاکوؤں کی تعداد 8 سے 10 کے قریب تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکو اپنے ہمراہ ایک ٹرک بھی ساتھ لائے تھے، انہوں نے فارم پر موجود تمام عملے کو یرغمال بنا کر انھیں باندھ دیا اور 45 منٹ میں واردات مکمل کر کے فارم میں موجود گلابی نسل کی بکریاں اور بکرے ٹرک میں بھر کر موقع سے فرار ہوگئے۔
مالک کے مطابق ڈاکوؤں نے فارم میں نصب کلوز سرکٹ کیمرے اور ڈی وی آر سسٹم کو بھی توڑ دیا تاکہ ان کی شناخت نہ ہو سکے۔ انھوں نے بتایا کہ فارم سے چھین کر لیجائے جانے والے بکروں اور بکریوں کی لاکھوں روپے مالیت ہے جبکہ ڈاکوؤں کے فرار ہونے کے بعد واقعے کی اطلاع مدد گار 15 پولیس کو دی گئی جس نے موقع پر پہنچ کر معلومات حاصل کر کے لنک روڈ ٹول پلازہ سے مبینہ طور پر واردات میں استعمال کیے جانے والے ٹرک کی تصاویر اور رجسٹریشن نمبر حاصل کرلیا۔
فارم کے مالک نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکوؤں کے بیک پر ایک کار بھی تھی اور اس کی تصویر بھی ٹول پلازہ کے کیمروں میں آئی ہے جو کہ پولیس کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
اسٹیل ٹاؤن پولیس نے فارم کے مینجر کی مدعیت میں نامعلوم ڈاکوؤں کے خلاف فارم سے 18 بکریاں اور 28 بکروں کے علاوہ ملازمین سے موبائل فون چھین کر لیجانے کا مقدمہ نمبر 834 سال 2025 بجرم دفعات 395 اور 397 کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انچارج انویسٹی گیشن ملیر ڈویژن کے حوالے کر دیا۔
فارم کے مالک نے مزید بتایا کہ مذکورہ واردات انتہائی منصوبہ بندی کے تحت انجام دی گئی ہے، انھوں نے پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واردات میں ملوث ڈاکوؤں کا سراغ لگا کر انھیں گرفتار اور چھین کر لیجائے گئے بکرے اور بکریاں برآمد کرائی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بتایا کہ چھین کر ڈاکوو ں
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔