لندن ہائیکورٹ میں مریم نواز کی اہم قانونی فتح، نجی چینل نے معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
توشہ خانہ الزامات میں گھڑی کے معاملے پر پاکستانی ٹی وی چینل نے برطانوی عدالت میں مریم نواز شریف سے معافی مانگ لی۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے برطانیہ میں ایک اہم قانونی فتح حاصل کرلی، مریم نواز نے یو کے ہائی کورٹ میں ’گلیکسی براڈ کاسٹنگ نیٹ ورک یو کے‘کے نام سے چلنے والے نجی نیوز چینل کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ یہ دعویٰ اُس پروگرام کے حوالے سے تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مریم نواز نے بیوروکریٹس کے ساتھ مبینہ کرپشن کے ذریعے توشہ خانہ کی گھڑی خریدی تھی۔ 17 نومبر 2022 کو نشر ہونے والے ٹاک شو میں الزام لگایا گیا تھا کہ مریم نواز نے بیوروکریٹس کے ساتھ بدعنوانی پر مبنی ملی بھگت سے توشہ خانہ (سرکاری تحائف کا ذخیرہ) سے ایک گھڑی حاصل کی جس کی اصل مالیت 10 لاکھ روپے تھی مگر وہ صرف 45ہزار روپے میں خریدی گئی۔مریم نواز کا مقدمہ برطانیہ کی ہائی کورٹ میں ان کے وکلاء کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جن کی نمائندگی ڈاؤٹی اسٹریٹ چیمبرز کے بیرسٹر ڈیوڈ لیمر اور اسٹون وائٹ سولی سیٹرز کی سعدیہ قریشی اور عشرت سلطانہ کر رہے تھے۔نجی ٹی وی چینل نے توشہ خانہ الزامات میں گھڑی کے معاملے پر برطانوی عدالت میں مریم نواز شریف سے معافی مانگ لی۔ نجی چینل کی جانب سے جاری ویڈیو بیان میں کہا گیا کہ ہم غیر ارادی طور پر غلط معلومات کی بنیاد پر لگائے گئے الزامات پر مریم نواز کو پہنچنے والی اذیت اور نقصان پر معذرت خواہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز نے توشہ خانہ
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔