صنعت و زراعت کے شعبے ترقی کریں گے تو ملک کو قرضوں سے نجات ملے گی: وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ صنعت و زراعت کے شعبے ترقی کریں گے تو ملک کو قرضوں سے نجات ملے گی۔
وزیر اعظم نے صنعتی و زرعی شعبے کے ماہرین و کاروباری برادری کے وفد سے ملاقات کی۔ انہوں نے صنعتوں اور کسانوں کے لیے رعایتی بجلی کے پیکج کا اعلان کر دیا۔ پیکج کے تحت صنعتوں، کسانوں کو آئندہ 3 سالوں (نومبر 2025 سے اکتوبر 2028) میں رعایتی قیمت پر اضافی بجلی فراہم کی جائے گی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللّٰہ کے فضل و کرم سے بہتر پالیسیوں کی بدولت معاشی اشارے بہتر ہوئے، مگر ہم سب کو مل کر ابھی مزید محنت کرنی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ علاقائی روابط کا فروغ اجتماعی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ معاشی بحران سے معاشی استحکام کا سفر کٹھن ضرور تھا لیکن معاشی ٹیم کی محنت اور آپ سب کے تعاون سے یہ ممکن ہوا۔ جس کی بدولت صنعتوں کا پہیہ چلا، برآمدات میں اضافہ ہوا، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس موسم سرما میں دیے جانے والے پیکج کے تحت صنعتی و زرعی شعبے نے 410 گیگاواٹ اضافی بجلی استعمال کی، ملکی معیشت کی ترقی، روزگار میں اضافے کے لیے صنعت اور زراعت کی ترقی انتہائی ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملکی صنعتوں، زرعی شعبے کی خطے میں مسابقت بڑھانے اور کاروباری سہولتوں میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔