Express News:
2026-07-24@06:06:30 GMT

مہنگی روٹی، مہنگی تر بجلی اور مہنگے ترین ٹماٹر

اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT

راقم الحروف جس چھوٹی سی کالونی میں رہتا ہے، اِس کے عقب میں ایک چھوٹا سا بازار ہے ۔اِس بازار میں چھوٹے گوشت (Mutton)کی ایک بھی دکان نہیں ہے کہ اِس کالونی کے مکین مہنگا گوشت خریدنے کی سکت کم کم رکھتے ہیں۔یہاں بڑے گوشت (Beaf) کی ایک اچھی اور صاف ستھری دکان کھلی تو سہی ، مگر چند ماہ بعد یہ بھی بند ہو گئی کہ گاہک ہی نہیں تھے ۔مذکورہ کالونی میں البتہ مرغی کے گوشت (Chicken) کی دو دکانیں موجود ہیں اور چل بھی رہی ہیں ۔ وجہ شائد یہ ہے کہ مرغی کا گوشت MuttonاورBeafسے سستا ہے۔

ہماری اِسی کالونی کے بازار میں سبزیوں کی بھی دو دکانیں ہیں ۔ یہ کالم لکھنے سے دو گھنٹے قبل راقم اِن دونوں دکانوں پر خود گیا اور ٹماٹروں کا بھاؤ معلوم کیا۔ دونوں دکانداروں نے مجھے بتایا: 510روپے فی کلو بیچ رہے ہیں ۔سُن کر مگر کانوں سے دھواں نہیں نکلا کیونکہ گذشتہ چند دنوں سے ہم سب خبریں سُن اور پڑھ رہے ہیں کہ ٹماٹروں کی قیمتیں آسمان سے جا لگی ہیں ۔

لوگ اب کہتے ہیں کہ مرغی کا گوشت سستا ہے اور ٹماٹر مہنگے ترین ۔ لیکن سستی مرغی مہنگے ترین ٹماٹروں کے بغیر پکے تو کیسے پکے؟ ہر گھر میں خواتین غصے کے ساتھ یہی سوال پنجاب کی اولوالعزم خاتون وزیر اعلیٰ سے پوچھ رہی ہیں۔ خوشحال طبقے کے لیے مہنگے ٹماٹر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مرد حضرات بھی گھر کی خواتین کے سامنے شرمندہ ہو رہے ہیں کہ محدود سی تنخواہ میں 500روپے فی کلو ٹماٹر کیسے خرید کر لائیں ؟

عوام جو پہلے ہی مہنگی بجلی اور مسلسل مہنگی ہوتی گروسری کے ہاتھوں خود کشیاں کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، مہنگے ترین ٹماٹروں نے مزید ستم ڈھا دیا ہے ۔ ستم یہ بھی ہے ہمارے مین اسٹریم میڈیا میں اِس موضوع پر کم ہی لب کشائی کی جارہی ہے ۔ نجی ٹی ویوں پر شام پڑتے ہی بڑے بڑے غیر ملکی مسائل پر باتوں کا ایک طومار اُمنڈ آتا ہے ۔ کوئی غزہ کے مسائل پر بات کرتا سنائی دیتا ہے تو کوئی شرم الشیخ (مصر) میں ہمارے کسی حکمران کی جانب سے کسی غیر ملکی حکمران کے لیے تعریفی کلمات کی تعریف و تحسین کرتا سنائی دیتا ہے ۔

کوئی ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ہماری کسی طاقتور شخصیت بارے ادا کیے گئے تحسینی الفاظ کی گردان پڑھتا سنائی دیتا ہے۔ مہنگائی کی چکی میں ہر روز پِستی عوام کو بھلا ایران و توران کے مسائل سے کیا تعلق؟ وہ تو بیچارے اپنے روزہ مرہ کے کمر شکن مسائل و مصائب کا حل چاہتے ہیں، مگر کسی جانب سے کوئی ٹھنڈی ہوا آتی محسوس نہیں ہو رہی ہے۔ مین اسٹریم میڈیا پر بھی جب عوام کو درپیش سنگین اور ہلاکت خیز مسائل پر جرأت و ہمت سے بات ہوتی سنائی نہ دے تو عوام پھر کیوں اور کیونکر مین اسٹریم میڈیا (اخبارات و جملہ نجی ٹی وی) کی طرف توجہ دیں؟

مہنگے ترین ٹماٹروں پر مین اسٹریم میڈیا بارے اگر کوئی بات سنائی نہیں دے رہی تو سوشل میڈیا پر اِس نئے عذاب بارے حکمرانوں کو’’دعائیں‘‘ ضرور دی جارہی ہیں ۔ یہ ’’دعائیں‘‘ سُن اور دیکھ کر حکمرانوں کا پارہ ہائی ہوتا ہے ۔ اور وہ سوشل میڈیا کی بھی مشکیں کسنے اور اسے پابجولاں کرنے کی نت نئی تراکیب سوچتے رہتے ہیں ۔

البتہ عوام کے لیے یہ سوشل میڈیا ایک متبادل نعمت بنتا جا رہا ہے کہ یہ حکمرانوںکو آئینہ بھی دکھا رہا ہے اور عوام کا دل بھی پشوری کررہا ہے ۔شائد یہی وجہ ہے کہ وطنِ عزیز کے کئی نامور صحافی اور اینکر پرسنز یو ٹیوب کی دکانیں کھول بیٹھے ہیں ۔ جو بات وہ اپنے متعلقہ اخبار میں لکھ نہیں سکتے یا اپنے متعلقہ نجی ٹی وی پر بوجوہ بیان نہیں کر سکتے ، اپنے یُو ٹیوب پر بے دھڑک بیان کر دیتے ہیں ۔ اِسی دو رُخے کردار سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملک کے اندر صحافیوں اور اینکروں کو بیک وقت کتنی زبانیں اختیار کرنا پڑ رہی ہیں ۔ یہ اسلوبِ حیات ہمارے مجموعی کردار کی چغلی بھی کھا رہا ہے ۔

ہم سب کھلی آنکھوں سے ملاحظہ کررہے ہیں کہ یہ سوشل میڈیا والے ہی ہیں جو کمر توڑ مہنگے ٹماٹروں بارے ذمے داران کی گوشمالی بھی کررہے ہیں ، ناجائز منافع کو بھی سامنے لا رہے ہیں اور حکمرانوں کی نااہلی بھی عیاں کررہے ہیں ۔ پنجاب میں ہم مگر یہ منظر دیکھ رہے ہیں کہ مہنگے ٹماٹر فروخت کرنے والوں پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال رہا ۔ مہنگی روٹی بیچنے والوں کو البتہ گرفتار ضرور کیا جارہا ہے ۔

یہ بھی عجب تماشہ لگایا جارہا ہے ! جب مارکیٹ میں گندم اور آٹا مہنگا ملے گا تو نانبائی روٹی، نان اور پراٹھا کیسے اور کیونکر حکومتی جبر پر سستا بیچ سکیں گے؟ رواں برس پنجاب حکومت نے کسانوں اور زمین داروں سے بروقت گندم اچھے داموں نہ خرید کر جو ظلم کیا ، اُس کے نتائج اب سامنے آ رہے ہیں ۔ اب کسانوں کو درخواست کی جارہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ گندم کاشت کریں اور ہم اِس بار3500روپے فی من گندم اُٹھائیں گے۔اور جو کسان رواں برس گندم صرف2ہزار روپے فروخت کرنے پر مجبور ہُوئے اور اپنا دیوالیہ نکلوا بیٹھے ، وہ حکومتی وعدے پر بھلا کیسے اعتبار کریں گے؟

مہنگی بجلی ، مہنگی چینی ، مہنگے گھی ، مہنگی روٹی، مہنگے پٹرول وغیرہ کے بعد اب عوام کو مہنگے ترین ٹماٹروں کی ’’مار ‘‘ماری جارہی ہے ۔ ہر حکمران کے دَور میں جب بھی مہنگائی ہوتی ہے، بے حس حکمران طبقہ پولے منہ کے ساتھ یہ سفاک بیان دے دیتے ہیں: عوام فلاں چیز نہ کھائیں تو مر تو نہیں جائیں گے ۔ بانی پی ٹی آئی اور جنرل مشرف کے دَور میں بھی چینی اور آٹا مہنگا ہُوا تو حکم صادر ہُوا: عوام چینی نہ کھائیں ۔ مگر مہنگے آٹے کا کریں ؟ اِس بارے کوئی ارشادِ گرامی سامنے نہ آ سکا ۔

اب کہا جارہا ہے کہ مہنگے ٹماٹر ہانڈی میں نہ ڈالیں تو بھی سالن بن جاتا ہے ۔ خوب! یہ قیمتی مشورے دینے والے حکمران اور سرکاری مراعات یافتہ ملازمین البتہ اپنی مراعات اور بے تحاشہ سرکاری سہولتوں ، وظائف اور تنخواہوں میں کمی کرنے پر تیار نہیں ہیں ۔عوام کو مشورے دیے جاتے ہیں کہ وہ ’’قومی مفاد‘‘ میں اپنے پیٹ کاٹ پھینکیں۔ ستم ظریفی کی بات یہ بھی ہے کہ ملک بھر کے ہر گھر میں مہنگے ترین ٹماٹروں پر سینہ کوبی ہو رہی ہے اور حکمرانوں کی جانب سے عوام کو یہ بھی بتانے کا تکلّف نہیں کیا جارہا کہ اِس عذاب کی وجہ ہے کیا؟؟

سادہ سی بات تو بہرحال یہ ہے کہ جب منڈی میں ٹماٹروں کی کھیپ ہی کم آئیگی تو رسد اور مانگ میں جو توازن بگڑے گا، تو لا محالہ اس کے اثرات عام صارف تک بھی پہنچیں گے ۔ دکانداروں کو منڈی سے مہنگے ٹماٹر ملیں گے تو وہ صارفین کو کیسے سستے داموں فروخت کر سکیں گے؟ اِس وقت سرکار نے ٹماٹر کی قیمت فی کلو170 تا 180روپے مقرر کررکھی ہے ۔ دکاندار اِس قیمت پر ٹماٹر بیچنے پر تیار نہیں ہیں ۔

نتیجے میں جھگڑے بڑھ رہے ہیں ۔ لاہور اورراولپنڈی کی سبزی منڈیوں میں عام ایام میں روزانہ30ٹرک ٹماٹروںکے اُترتے تھے جس کی وجہ سے قیمتیں کنٹرول میں تھیں ۔ اور اب قیمتیں آؤٹ آف کنٹرول اس لیے ہُوئی ہیں کہ ٹماٹروں سے لدے مذکورہ ٹرکوں کی تعداد تقریباً40فیصد کم ہو گئی ہے ۔اِس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاک ، افغان تصادم کی وجہ سے پاک افغان ٹریڈ بند ہو چکی ہے ۔ اور جو ٹماٹر افغانستان سے آرہا تھا، مسدود ہو چکا ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے وہ علاقے جہاں کے350ایکڑ سے زائد رقبے پر ٹماٹر کی فصل کاشت کی جاتی ہے ، اِس بار ٹماٹر کی فصل کو ایک پُر اسرار بیماری نے آ گھیرا ہے ۔

یہ بیماری ٹماٹر کے پودے کے پتوں پر حملہ آور ہوتی ہے ۔ اِس کے نتیجے میں پتّے خشک ہو کر پورے پودے کو بے ثمر کر نے کا سبب بن جاتے ہیں ۔ یوں ٹماٹروں کی فصل میں شدید زوال آیا ہے اور اِس کے اثرات ہر جانب محسوس کیے جارہے ہیں ۔ اگر مشرق میں سرحد کھلی ہوتی تو شائد بھارت ہی سے ٹماٹر درآمد کر لیے جاتے ، مگر یہ راستہ بھی مسدود ہے ۔ مشرق و مغرب کے سرحدی تصادموں میں پھنسے بیچارے غریب پاکستانی عوام جائیں تو جائیں کہاں؟؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مہنگے ترین ٹماٹروں مین اسٹریم میڈیا مہنگے ترین ٹماٹر مہنگے ٹماٹر سوشل میڈیا ٹماٹروں کی رہے ہیں کہ ٹماٹر کی یہ ہے کہ رہی ہیں عوام کو یہ بھی ہی ہیں ہے اور رہی ہے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران