جامعات ایم ڈی کیٹ 2025ء کے پُرامن اور شفاف انعقاد کیلئے انتظامات یقینی بنائیں، ڈاکٹر تاج
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
— فائل فوٹو
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج کی زیر صدارت اجلاس میں جامعات کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایم ڈی کیٹ 2025ء کے تمام ضروری انتظامات کا جائزہ لیں اور ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔
اجلاس میں رجسٹرار بریگیڈیئر (ر) ریحان نقوی، امتحانی شعبہ کے سربراہ، اور امتحان لینے والی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے شرکت کی۔
اجلاس میں تمام جامعات کو ہدایت دی گئی کہ وہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT) 2025ء کے منصفانہ، شفاف اور محفوظ انعقاد کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔ امتحانی مراکز میں امیدواروں کے لیے مناسب نشستوں اور سہولتوں کا بندوبست کیا جائے تاکہ وہ اطمینان کے ساتھ امتحان دے سکیں۔
اجلاس میں کہا گیا کہ سیکیورٹی اقدامات کو مضبوط بنانے کے لیے جیمبرز نصب کیے جائیں تاکہ غیر مجاز الیکٹرانک آلات کے استعمال کو روکا جا سکے۔
مزید برآں، جامعات کو ہدایت دی گئی کہ امتحانی ہالز میں موسم کے مطابق بندوبست کیا جائے اور تمام امیدواروں کے لیے پینے کے پانی کی سہولت فراہم کی جائے۔ والدین اور سرپرستوں کے انتظار کے لیے مناسب جگہ بھی مہیا کی جائے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ جامعات امیدواروں کو کاربن کاپی کے ساتھ ببل شیٹس فراہم کریں گی اور سوالیہ پرچوں کی مکمل رازداری کو یقینی بنائیں گی۔ سوالیہ پرچے صرف گواہوں کی موجودگی میں کھولے جائیں گے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
امتحان کے اختتام پر تمام ببل شیٹس فوراً جمع کر کے محفوظ مقام پر رکھے جائیں۔ ایم ڈی کیٹ 2025ء کے اصل امتحانی پرچے نتیجے کے اعلان کی تاریخ سے کم از کم بارہ (12) ماہ تک متعلقہ جامعات کے پاس محفوظ رہیں گے۔
صدر پی ایم اینڈ ڈی سی نے اس بات پر زور دیا کہ ایم ڈی کیٹ 2025ء کے نتائج امتحان کے انعقاد کے ایک ہفتے کے اندر مرتب کر کے جاری کیے جائیں۔ نتائج کے اعلان کے دس (10) دن کے اندر ایک جامع بعد از امتحان تجزیاتی رپورٹ تیار کر کے جمع کروائی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ شفافیت کے پیشِ نظر امتحان ختم ہوتے ہی آفیشل آنسر کی (Answer Key) یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر جاری کی جائے۔ اس کے علاوہ، نتائج کے اعلان کے تین (03) دن کے اندر امیدواروں کو اپنے نمبروں کی ری چیکنگ کی سہولت فراہم کی جائے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ عملی عمل کے بہتر انتظام کے لیے داخلے کا عمل صوبائی حکام اور داخلہ دینے والی جامعات کی مکمل ذمہ داری کے تحت شروع کیا جائے گا۔ تمام داخلے 28 فروری 2026ء تک مکمل کیے جائیں گے۔ پی ایم اینڈ ڈی سی کا داخلوں کے عمل میں کوئی کردار نہیں ہوگا، یہ معاملہ مکمل طور پر صوبائی جامعات کا ہے۔
تمام جامعات کو ہدایت دی گئی کہ وہ ان تمام ہدایات پر مکمل طور پر عمل کریں اور ایم ڈی کیٹ 2025ء سے متعلق تمام مراحل کو انتہائی دیانت داری، رازداری اور مؤثر طریقے سے مکمل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایم ڈی کیٹ 2025ء کے جامعات کو ہدایت اجلاس میں اینڈ ڈی کی جائے کے لیے گئی کہ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔