Jasarat News:
2026-07-24@04:38:14 GMT

تحریک لبیک پر پابندی

اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں متفقہ طور پر تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دے دی گئی ہے یہ پابندی پنجاب حکومت کی درخواست پر عائد کی گئی ہے اور بطور سیاسی جماعت تحریک لبیک کو تحلیل کرنے کا مروجہ طریقہ اختیار کرنے کے بجائے کابینہ نے تحریک لبیک کو دہشت گردی اور تشدد آمیز سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ تحریک لبیک کے خلاف کارروائی کا آغاز چند روز قبل پنجاب حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کو تحریک پر پابندی کی سفارش سے ہوا تھا جس کا جائزہ لینے کے لیے جمعرات کے روز وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے معاملہ کی سمری پیش کی گئی جب کہ پنجاب حکومت کے اعلیٰ افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی اور تحریک لبیک کو کالعدم قرار دیے جانے سے متعلق بریفنگ دی اور وفاقی کابینہ کے ارکان کو بتایا کہ 2016ء میں قائم ہونے والی تحریک لبیک نامی تنظیم نے پورے ملک میں شرانگیزی کو ہوا دی، تنظیم کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں شرانگیزی کے واقعات ہوئے، 2021ء میں بھی اس وقت کی حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی لگائی جو 6 ماہ بعد اس شرط پر ہٹائی گئی کہ آئندہ ملک میں بد امنی اور پرتشدد کارروائیاں نہیں کی جائیں گی۔ تنظیم پر پابندی کی وجہ 2021ء میں دی گئی ضمانتوں سے روگردانی بھی ہے، ماضی میں بھی ٹی ایل پی کے پر تشدد احتجاجی جلسوں اور ریلیوں میں سیکورٹی اہلکار اور بے گناہ راہ گیر جاں بحق ہوئے۔ وفاقی کابینہ دی گئی بریفنگ اور حکومت پنجاب کی سفارش کے بعد متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچی کہ ٹی ایل پی، دہشت گردی اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہے۔ فیصلے کے تحت کالعدم تنظیم کے دفاتر سیل ہوں گے، تمام لٹریچر، الیکٹرونک، ڈیجیٹل اور پرنٹڈ میٹریل ضبط ہو گا، پریس اسٹیٹمنٹ اور پریس کانفرنس پر پابندی ہو گی، تنظیم کے عہدیداروں کو پاکستانی پاسپورٹ پر غیرملکی سفر کرنے کی ممانعت ہو گی، بینک اکائونٹس سمیت مالیاتی اداروں سے سہولتیں نہیں لے سکیں گے، تمام اسلحہ لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے، کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والا شخص مجرم تصور کیا جائے گا۔ حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 11 بی کے تحت ٹی ایل پی کو بحیثیت تنظیم کالعدم قرار دینے کی منظوری دی ہے۔ جس کے مطابق وفاقی حکومت گزٹ آف پاکستان میں نوٹیفکیشن کے ذریعے پابندی کا اعلان کرے گی اور تین روز کے اندر کالعدم تنظیم کو پابندی کی وجوہ سے آگاہ کرے گی۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 11 سی کے تحت کالعدم تنظیم وفاقی حکومت کے فیصلے کے 30 روز کے اندر نظر ثانی درخواست دائر کر سکتی ہے جس پر وفاقی حکومت کو 90 روز کے اندر فیصلہ کرنا ہے۔ وفاقی حکومت نظر ثانی درخواست کو مسترد کر دے تو کالعدم تنظیم نظر ثانی فیصلے کے 30 روز کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر سکتی ہے۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 11 بی کے تحت وفاقی حکومت اس تنظیم کو کالعدم قرار دے سکتی ہے جس پر حکومت کے پاس یہ یقین کرنے کے مناسب دلائل ہوں کہ تنظیم دہشت گردی میں ملوث ہے، بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی کالعدم تنظیم یا شخصیت کے ذریعے کنٹرول ہو رہی ہو یا کسی کالعدم تنظیم یا شخصیت کے احکامات پرعمل کر رہی ہو۔ خیال رہے ٹی ایل پی الیکشن کمیشن کی فہرست میں 102 نمبر پر موجود ہے، جب کہ بحیثیت سیاسی جماعت آئین کے آرٹیکل 17 یا الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 212 کے تحت ابھی پابندی عائد نہیںکی گئی جس کے مطابق وفاقی حکومت ملکی سالمیت کے خلاف کام کرنے والی جماعت کے خلاف ڈیکلیریشن جاری کرتی ہے جس کے بعد 15 روز کے اندر معاملہ عدالت عظمیٰ میں جاتا ہے اور عدالت عظمیٰ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے، اس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان اس کے تحلیل کیے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے۔ وطن عزیز میں کسی سیاسی جماعت کو خلاف قانون یا کالعدم قرار دیے جانے کا یہ پہلا موقع نہیں بلکہ قبل ازیں بھی حکومت کی جانب سے بارہا یہ حربہ آزمایا جا چکا ہے۔ خود تحریک لبیک کے خلاف بھی عمران خاں کی وزارت عظمیٰ کے دور میں پابندی عائد کی گئی تھی مگر بعد ازاں مختلف دینی و سیاسی شخصیات اور جماعتوں کی طرف سے دبائو کے سبب حکومت نے اس معاملہ میں بعض ضمانتوں کے حصول کے بعد پابندی واپس لینے کا اعلان کر دیا تھا اور ایک معاہدے کے تحت تحریک لبیک کے گرفتار کارکنوں اور قائدین کی رہائی بھی عمل میں آگئی تھی۔ قبل ازیں قیام پاکستان کے صرف سات برس بعد جولائی 1954ء میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے الزام میں پابندی عائدکی گئی تھی۔ جماعت اسلامی بھی ماضی میں پابندی کی زد میں آچکی ہے۔ پاکستان کے پہلے فوجی صدر ایوب خان کے دور میں جماعت اسلامی کو بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑا جب 1964ء میں حکومت نے ریاست مخالف سرگرمیوں اور غیر ملکی فنڈنگ کے الزام میں جماعت اسلامی کو کالعدم قرار دے کر اس کے اہم رہنمائوں کو گرفتار کیا۔ جماعت اسلامی کی جانب سے اس پابندی کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا گیا اور عدالت عظمیٰ نے یہ پابندی ختم کر دی تھی۔ اس کے علاوہ 1971ء میں صدر جنرل یحییٰ خان نے شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی پر بھی پابندی عائد کی تھی۔ نیشنل عوامی پارٹی کا قیام 1967ء میں عمل میں آیا تھا اور قیام کے ابتدائی آٹھ برس میں ہی اسے دو مرتبہ پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل یحییٰ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے بھی 1975ء میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد کی تھی۔ ماضی قریب میں جن جماعتوں کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا ان میںسندھی قوم پرست جماعت جسقم بھی شامل ہے جس پر مئی 2020ء میں وزارت داخلہ نے پابندی لگائی تھی۔ موجودہ حکومت کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے چند ماہ قبل تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا بھی اعلان کیا تھا تاہم بعد میںکسی عقل مند کے مشورے پر حکومت نے خاموشی اختیار کر لی۔ اب تک کی تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح کی پابندیوں کو عدالت عظمیٰ میں جواز فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے یہ عدالت کے ذریعہ ختم ہو جاتی ہیں تاہم اگر کسی جماعت یا تنظیم پر پابندی برقرار رہ بھی جائے تو تجربات یہی بتاتے ہیں کہ ان کی سرگرمیاں ختم نہیں ہوتیں اور وہ کسی دوسرے نام سے اپنا کام شروع کر دیتی ہیں یا بغیر نئے نام کے بھی ایسی تنظیمیں اپنا کام جاری رکھتی ہیں۔ اس ضمن میں ہمارے مقتدر اداروں اور فیصلہ سازوں کو بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ وہ تحقیق و جستجو اور حقائق کی تہہ تک پہنچنے کے تمام تر ذرائع اور وسائل رکھنے کے باوجود بار بار ایسے فیصلے کیوں کرتے ہیں جن سے بعد ازاں رجوع ضروری اور مجبوری ہو جاتا ہے؟؟

 

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انسداد دہشت گردی ایکٹ کے جماعت اسلامی وفاقی کابینہ کالعدم تنظیم وفاقی حکومت پابندی عائد کالعدم قرار روز کے اندر تحریک لبیک عدالت عظمی کی جانب سے پابندی کی پابندی کا پر پابندی ٹی ایل پی حکومت کے حکومت نے کے سیکشن عائد کی کے خلاف کے بعد کے تحت کی گئی

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی