Islam Times:
2026-07-24@13:53:28 GMT

اسرائیل نے قبرص میں فضائی دفاعی نظام تعینات کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT

اسرائیل نے قبرص میں فضائی دفاعی نظام تعینات کر دیا

رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ ماہرین کے مطابق یہ اقدام دراصل ایران اور اسرائیل کی حالیہ جنگ کے بعد خطے میں طاقت کے توازن کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے، اس جنگ میں تل ابیب کو میزائل حملوں کے محاذ پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا، اور اب ترکیہ بھی اس جغرافیائی کشمکش کے دائرے میں آ گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عبرانی زبان کے میڈیا آوٹ لیٹ نے خبر دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے اپنا فضائی دفاعی نظام قبرص میں نصب کر دیا ہے۔ خبر رساں ویب‌ سائٹ روتر نٹ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل نے اپنے باراک ایم ایکس نامی جدید فضائی دفاعی نظام قبرص میں تعینات کر دیے ہیں، جن کی حدِ پرواز تقریباً 400 کلومیٹر تک ہے۔ یہ نظام ڈرونز، جنگی طیاروں اور کروز میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور یوں یہ اسرائیل کے ابتدائی وارننگ اور انٹیلیجنس نیٹ ورک کا حصہ بن کر مشرقی بحیرہ روم میں اس کی دفاعی موجودگی کو مزید مضبوط بنا دیتے ہیں۔

اسی کے ساتھ تل ابیب اور ایتھنز کے درمیان فوجی تعاون بھی اسٹریٹیجک سطح تک بڑھ جائیگا، جس کا مقصد ترکیہ کو مشرق اور مغرب دونوں سمتوں سے گھیرنا ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ ماہرین کے مطابق یہ اقدام دراصل ایران اور اسرائیل کی حالیہ جنگ کے بعد خطے میں طاقت کے توازن کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے، اس جنگ میں تل ابیب کو میزائل حملوں کے محاذ پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا، اور اب ترکیہ بھی اس جغرافیائی کشمکش کے دائرے میں آ گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قبرص، اپنے جدید دفاعی اور انٹیلیجنس نظاموں کے ذریعے، اسرائیل کے لیے ترکیہ پر دباؤ ڈالنے کا ایک نیا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ انقرہ اب بھی ایک ایسی طاقتور ساخت رکھتا ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے اسرائیل، قبرص اور یونان کے ساتھ اپنے اتحاد کو مضبوط کر کے ترکی کے خلاف اپنے محاذوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ترکی، اسرائیل کی وارننگز کے باوجود، شام اور غزہ میں اپنی موجودگی بڑھانے کی پالیسی پر قائم ہے۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گیا ہے کے ایک

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان