اصلاح معاشرہ اور نظام کی تبدیلی کی جدوجہد میں سب کو ملکر بھرپور کردار ادا کرنا ہے ٗمنعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ ہم سب کو مل کر اصلاحِ معاشرہ اور نظامِ زندگی کی تبدیلی کی جدوجہد میں اپنا بھرپور حصہ ڈالنا ہے۔اپنے معاشرے سے جھوٹ، بددیانتی، کرپشن، بے ایمانی اور لا قانونیت کے کلچر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ایسا نظام قائم کرنا ہے جو قرآن و سنت کی روشنی میں عدل و انصاف پر مبنی ہو ۔ جدوجہد صرف چند افراد کی نہیں بلکہ ہم سب کی اجتماعی ذمے داری ہے، ہمیں امید ہے کہ جماعت اسلامی کے تمام کارکنان جو ہمارے حقیقی معاون، حامی اور دست و بازو ہیں، اس جدوجہد میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔جماعت اسلامی پاکستان کا سالانہ اجتماعِ عام 21تا23 نومبر مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے جا رہا ہے یہ اجتماع اسی دعوتی و انقلابی مشن کی ایک عظیم کڑی ہے۔کارکنان اجتماع میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں، اپنے علاقوں میں لوگوں کو اس عظیم مقصد کے لیے متحرک کریں اور اس اجتماع کے انتظامات کے لیے دل کھول کر فنڈ جمع کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع گڈاپ کے علاقہ گلشن معمار میں ممبر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن سے امیر جماعت اسلامی ضلع گڈاپ عرفان احمد، سیکریٹری ضلع ابوالخیر ملک، صدر پبلک ایڈ کمیٹی ابوالضیاء پرویز،ناظم علاقہ گلشن معمار فخر شبیر ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔کنونشن میں علاقہ گلشن معمار کے ذمہ داران، کارکنان اور ممبران جماعت اسلامی کی بڑی تعداد شریک تھی۔منعم ظفر خان نے مزیدکہاکہ جماعت اسلامی ایک ایسی تحریک ہے جو اعلائے کلمۃ الحق کی دعوت کے لیے سالہا سال سے معاشرے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کو ادا کر رہی ہے۔ ہم اصلاحِ معاشرہ اور نظامِ عدل کے قیام کی جدوجہد میں شب و روز مصروفِ عمل ہیں۔یہ مشن دعوت الی اللہ کا مشن ہے، جو انبیاء علیہم السلام کی میراث ہے۔ ہم اسی پیغامِ انبیا کے امین ہیں اور اسی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی تمام تر قوت، صلاحیت اور جذبے کے ساتھ میدانِ عمل میں موجود ہیں۔عرفان احمد نے کہاکہ آج ہم یہاں اس عزم کے ساتھ جمع ہوئے ہیں کہ ہم اپنے دین کو معاشرے میں عام کریں گے، ظلم و ناانصافی کے نظام کے مقابلے میں عدل و انصاف کا قرآنی نظام قائم کرنے کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔جماعت اسلامی ایک تحریکِ ہے ،ہمارا مقصد صرف باتیں کرنا نہیں بلکہ عمل کے میدان میں اترنا ہے۔ہم سب کو اپنے کردار، اپنے قول اور اپنے عمل سے لوگوں کے دل جیتنے ہیں۔ماہِ نومبر میں مینارِ پاکستان لاہور میں ہونے والا اجتماعِ عام ہماری جدوجہد کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ کارکنان اجتماع میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کی جدوجہد کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔