Jasarat News:
2026-06-03@05:58:07 GMT

دن کا آغاز کریں درست طریقے سے، ورنہ گردے متاثر ہوں گے

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

دن کا آغاز کریں درست طریقے سے، ورنہ گردے متاثر ہوں گے

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

صبح کا وقت جسم کے نظاموں کے لیے نئی توانائی کا آغاز ہوتا ہے، مگر بہت سے لوگ ایسی چھوٹی مگر خطرناک غلطیاں کرتے ہیں جو رفتہ رفتہ گردوں کی صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق گردے رات بھر خاموشی سے اپنا کام انجام دیتے ہیں ۔ خون کو صاف کرتے ہیں، زہریلے مادے اور اضافی سیال جسم سے خارج کرتے ہیں اور ہارمونز کی مدد سے بلڈ پریشر اور ہڈیوں کے نظام کو متوازن رکھتے ہیں، لیکن اگر دن کا آغاز غیر صحت مند عادات سے کیا جائے تو یہ حساس عضو وقت کے ساتھ اپنی کارکردگی کھو سکتا ہے۔

سب سے عام اور نقصان دہ عادت صبح اٹھتے ہی پانی نہ پینا ہے۔ رات بھر جسم پانی کی کمی کا شکار رہتا ہے اور بیدار ہونے پر گردوں کو فوری طور پر ہائیڈریشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت چائے یا کافی پینے سے گردوں پر بوجھ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ کیفین پیشاب آور ہونے کے باعث مزید پانی خارج کر دیتی ہے۔

اسی طرح پیشاب روکنے کی عادت بھی گردوں کے لیے خطرناک ہے۔ ماہرین کے مطابق جب مثانہ بھر جاتا ہے اور پیشاب روکا جاتا ہے تو مثانے کی دیواروں پر دباؤ بڑھتا ہے جو طویل عرصے میں گردوں کی نالیوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ دباؤ گردوں کی کارکردگی کم کر دیتا ہے اور بعض اوقات انفیکشن یا گردوں کی سوزش کا باعث بنتا ہے۔

تیسری غلطی خالی پیٹ درد کش ادویات کا استعمال ہے۔ ایسے دوائیں معدے کے ساتھ گردوں کے فلٹریشن سسٹم پر بھی منفی اثر ڈالتی ہیں۔ خاص طور پر صبح خالی پیٹ ان کا استعمال گردوں کے بافتوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور طویل استعمال سے گردوں کی ناکامی تک جا سکتا ہے۔

چوتھی عادت ورزش کے بعد پانی نہ پینا ہے۔ صبح کی ورزش اگرچہ صحت کے لیے بہترین ہے، مگر اس کے بعد پانی نہ پینا جسم میں ڈی ہائیڈریشن پیدا کرتا ہے۔ اس حالت میں گردے کو خون صاف کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، جس سے ان پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

آخر میں ناشتہ نہ کرنا بھی ایک سنگین غلطی ہے۔ جو لوگ ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں، وہ عموماً دن کے دوران زیادہ نمکین غذائیں کھانے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ زیادہ نمک گردوں پر براہ راست اثر ڈالتا ہے اور بلڈ پریشر بڑھاتا ہے، جو گردوں کی خرابی کا ایک بنیادی سبب ہے۔

ماہرین کے مطابق صبح کا آغاز پانی پینے، ہلکی ورزش، مناسب ہائیڈریشن اور پروٹین سے بھرپور ناشتہ کرنے سے ہونا چاہیے۔ یہ معمولات نہ صرف گردوں کو محفوظ رکھتے ہیں بلکہ پورے جسم کو دن بھر متوازن اور فعال رکھتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گردوں کی کا آغاز جاتا ہے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان