پاراچنار، آئی ایس او کا شہیدِ مقاومت ضلعی کنونشن
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
علامہ زاہد حسین انقلابی، علامہ خیال حسین دانش نے شہداء کی قربانیوں اور نوجوانوں کی ذمہ داریوں پر نہایت بصیرت افروز خطاب کیا۔ خیبر پختونخوا ریجن صدر حاجت نے نو منتخب ضلع کرم صدر کا اعلان کیا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
پاراچنار، آئی ایس او کا شہیدِ مقاومت ضلعی کنونشن
پاراچنار، آئی ایس او کا شہیدِ مقاومت ضلعی کنونشن
پاراچنار، آئی ایس او کا شہیدِ مقاومت ضلعی کنونشن
پاراچنار، آئی ایس او کا شہیدِ مقاومت ضلعی کنونشن
پاراچنار، آئی ایس او کا شہیدِ مقاومت ضلعی کنونشن
پاراچنار، آئی ایس او کا شہیدِ مقاومت ضلعی کنونشن
پاراچنار، آئی ایس او کا شہیدِ مقاومت ضلعی کنونشن
پاراچنار، آئی ایس او کا شہیدِ مقاومت ضلعی کنونشن
پاراچنار، آئی ایس او کا شہیدِ مقاومت ضلعی کنونشن
پاراچنار، آئی ایس او کا شہیدِ مقاومت ضلعی کنونشن
پاراچنار، آئی ایس او کا شہیدِ مقاومت ضلعی کنونشن
پاراچنار، آئی ایس او کا شہیدِ مقاومت ضلعی کنونشن
اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان خیبر پختونخوا ریجن ضلع کرم کے زیر اہتمام سالانہ ضعلی کنونشن بعنوان شہید مقاومت کنونشن کا انعقاد المصطفیٰ ہاوس میں کیا گیا۔ جس میں علامہ زاہد حسین انقلابی، علامہ خیال حسین دانش نے شہداء کی قربانیوں اور نوجوانوں کی ذمہ داریوں پر نہایت بصیرت افروز خطاب کیا۔ خیبر پختونخوا ریجن صدر حاجت نے نو منتخب ضلع کرم صدر کا اعلان کیا اور ان سے حلف بھی لیا۔ ضلع کنونشن میں ضلع کرم بھر سے طلباء امامیہ، سینئر احباب، محبین و مومنین نے شرکت کی۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مقاومت ضلعی کنونشن ا ئی ایس او کا شہید
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔