وزیراعظم شہباز شریف 3 روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض (اے پی پی) وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر نوویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو کانفرنس میں شرکت کے لیے ریاض پہنچ گئے۔ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریاض کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز، سعودی عرب کے پاکستان میں سفیر نواف بن سعید المالکی اور سعودی عرب میں پاکستانی سفیر احمد فاروق نے وزیراعظم اور وفد کا خیرمقدم کیا۔وفاقی وزرا اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، طارق فاطمی اور بلال بن ثاقب سمیت اعلیٰ سطح وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہے۔ شہباز شریف فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے دوطرفہ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ *‘‘پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اخوت، اعتماد اور باہمی احترام پر مبنی ہیں، ہم انہیں مزید مضبوط اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، ہم بھی اس برادر ملک کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔وزیراعظم اپنے دورے کے دوران کانفرنس میں شریک عالمی رہنماؤں اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کریں گے تاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کیے جا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔