کیس کی سماعت 29 اکتوبر کو،جسٹس ارباب محمد طاہر کی سربراہی میں چاررکنی بینچ سماعت کریگا
جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس اعظم خان اور جسٹس راجہ انعام امین منھاس بینچ میں شامل ہیں

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس 29 اکتوبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ میں سماعت کے لیے مقرر کر لیا گیا۔رجسٹرار آفس نے کیس سماعت کے لیے مقرر کرنے کی کازلسٹ جاری کر دی۔رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق کیس کی سماعت 29 اکتوبر کو ہو گی۔ ۔ جسٹس ارباب محمد طاہر چار رکنی لارجر بینچ کی سربراہی کریں گے جبکہ جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس اعظم خان اور جسٹس راجہ انعام امین منھاس بینچ میں شامل ہیں۔اس سے قبل بینچ کے ایک رکن کی عدم دستیابی پر گزشتہ سماعت منسوخ ہوگئی تھی۔ یکم ستمبر کو جسٹس انعام امین منہاس نے لارجر بینچ کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھیج دی تھی۔اس سے قبل یہ کیس جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے گزشتہ سماعت پر وزیراعظم اور کابینہ ارکان کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے تھے۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے ٹیکس کیسز کے لیے اسپیشل ڈویژن بینچ کا حصہ بننے کے بعد سنگل بینچ کے کیسز ٹرانسفر کر دیٔے گئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: لارجر بینچ کے لیے

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار