یہ شام بھی عام دنوں جیسی تھی۔ منو جان روڈ پر سورج ڈھل رہا تھا، اسکولوں سے بچوں کی چھٹی ہو چکی تھی، اور گلیوں میں ہنسی کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ انہی بچوں میں ایک ایسی معلمہ بھی تھی جو دوسروں کو روشنی بانٹنے کے بعد خود اپنے گھر کی طرف لوٹ رہی تھی۔ بی بی مریم، ایک کم عمر ٹیچر، جو بچوں کو پڑھانے کے ساتھ اُنہیں زندگی جینے کا حوصلہ سکھاتی تھی۔

مگر اس شام علم کی وہ شمع ہمیشہ کے لیے بجھا دی گئی۔ 16 اکتوبر کی سہ پہر کوئٹہ کے علاقے منو جان روڈ پر پیش آنے والا یہ واقعہ شہر کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: قتل کے ملزمان کو غیر قانونی طور پر رہا کرنے پر کرائمز برانچ کا افسر معطل

مریم اسکول سے چھٹی کے بعد ہمیشہ کی طرح پیدل گھر جا رہی تھی۔ ابھی گھر کے دروازے پر پہنچی ہی تھی کہ موٹر سائیکل پر سوار 2 نامعلوم افراد نے اس پر فائرنگ کردی۔

گولیاں چلنے کی آواز سے پورا محلہ لرز اُٹھا۔ مریم کے والد میر احمد گھر کے اندر سے دوڑتے ہوئے باہر نکلے۔ پھر جو منظر ان کے سامنے تھا، وہ کسی باپ کے لیے زندگی کا سب سے بڑا نقصان تھا۔

پولیس نے مقدمہ درج کرکے کیس کو سیریس کرائم انویسٹی گیشن وِنگ (سی آئی وِنگ) کے حوالے کر دیا۔

آئی جی بلوچستان نے میرے سامنے سب سے پہلا کیس یہی رکھا، ایس ایس پی عمران قریشی

ایس ایس پی عمران قریشی جو حال ہی میں اس وِنگ کا چارج سنبھال چکے تھے، بتاتے ہیں کہ آئی جی بلوچستان نے ان کے سامنے سب سے پہلا کیس یہی رکھا۔ جب میں نے عہدہ سنبھالا تو آئی جی نے مجھے ایک فائل دی اور کہا: ’یہ ایک ننھی بچی کا کیس ہے، اس کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ تم نے اس کے قاتلوں کو ڈھونڈنا ہے، یہ صرف ایک فائل نہیں تھی، یہ ایک ذمہ داری تھی، ایک وعدہ تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے جدید ڈیجیٹل ٹریسنگ، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی مدد سے 6 روز میں اہم پیش رفت حاصل کی۔

شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے، فون ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا، اور گھنٹوں کی محنت کے بعد ایک اہم ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس نے ملزم کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل بھی برآمد کرلی۔

’مرکزی ملزم کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا‘

عمران قریشی کے مطابق یہ 2 افراد تھے، ایک موٹر سائیکل چلا رہا تھا، دوسرا فائرنگ کررہا تھا۔ ’ہم نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ مرکزی ملزم کے گرد بھی گھیرا تنگ کردیا گیا ہے۔ ہم صرف اعتراف پر نہیں بلکہ ٹھوس شواہد پر یقین رکھتے ہیں، انصاف ہر حال میں ہوگا۔‘

ایس ایس پی بتاتے ہیں کہ وہ چند روز قبل مریم بی بی کے والدین سے بھی ملنے گئے۔

’وہاں صرف تعزیت کے لیے نہیں گیا تھا، میں لواحقین کو یہ یقین دلانے گیا تھا کہ پولیس ان کے ساتھ ہے، وہ بہت بڑے صدمے میں ہیں، لیکن میں نے ان سے کہا یہ کیس محض فائل نہیں ہے، یہ ہماری ذمہ داری ہے، ہم انصاف کے سفر میں آپ کے ساتھ ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: غیرت کے نام پر قتل،جرگہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور اُسے عدالتی ریمانڈ کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے بھی ٹیمیں متحرک ہیں اور متعدد مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان پولیس روشنی کی شمع معلمہ کا قتل ملزم گرفتار وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان پولیس روشنی کی شمع معلمہ کا قتل ملزم گرفتار وی نیوز کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی

گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار