آئینی ترمیم منظور: اسحاق ڈار کی سینیٹرز اور اتحادی جماعتوں کو مبارکباد WhatsAppFacebookTwitter 0 10 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس ) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یہ ایک تاریخی بل تھا،27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر سینیٹرزکو دل کی گہرائیوں سیمبارکباد دیتا ہوں۔سینیٹ اجلاس کے وقفہ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کا قیام شامل تھا، آئینی عدالت کی دوسری عدالتوں سیعلیحدگی ایک بڑی پیشرفت ہے، یہ ایک بڑی خوش آئند تبدیلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ چیف جسٹس پاکستان سمیت تمام ججزکی سنیارٹی برقرار رہے گی، آئینی عدالت کی دوسری عدالتوں سے علیحدگی بڑی پیشرفت ہے۔ نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم بل تھا، منظوری پرتمام سینیٹرز اتحادیوں او رآزاد اراکین کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، دنیا کیکئی ملکوں میں آئینی عدالت موجود ہے، آئینی ترمیم عدالتی نظام میں بہتری کے لیے کی گئی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ آئینی عدالت کیقیام کے حوالے سے ترامیم پر تمام اسٹیک ہولڈرز مبارکباد کے مستحق ہیں، وعدے کیمطابق بل پہلے سینیٹ میں لائیاورتمام سینیٹرز کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا، مشترکہ پارلیمانی کمیٹی دونوں ایوان کیارکان پرمشتمل تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام معاملات کوباہمی مشاورت اورافہام و تفہیم سے حل کریں گے، اٹھارہویں ترمیم میں خیبرپختونخوا کا نام تبدیل ہوا، خیبرپختونخوا کا نام عوامی نیشنل پارٹی کے مطالبے پر تبدیل کیا گیا، یہ ایک ٹیم ورک ہے، سب کومبارک ہو۔ نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ اے این پی کا دوبارہ مطالبہ آیا ہے کہ صوبے کا نام صرف پختونخوا ہونا چاہیے، صوبے کے نام کی تبدیلی پر مزید مشاورت ہو گی، ایم کیو ایم کی پیش کی گئی بلدیاتی نظام سے متعلق ترمیم پر بھی مزید مشاورت ہوگی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب دھماکا، متعدد گاڑیوں میں آگ لگ گئی بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب دھماکا، متعدد گاڑیوں میں آگ لگ گئی آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کے بعد پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو مستعفی ہوگئے سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر عرفان صدیقی کی صحت کے حوالے سے افواہوں کی تردید سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کی 59شقوں کی کثرت رائے سے منظوری دیدی، اپوزیشن کا شور شرابہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 20 دہشتگرد ہلاک پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ،پی ٹی آئی ،جے یو آئی کا ممبران کے خلاف کاروائی کا اعلان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن