اجتماع عام انقلا ب کی نویدثابت ہوگا‘نوید بیگ‘ عبد الرزاق
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کے کل پاکستان اجتماع عام کے سلسلے میں جماعت اسلامی ضلع سائٹ غربی کے تحت گزشتہ روز مومن آباد چوک پر ممبرز کنونشن کا انعقاد کیا گیا ،جس سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی نوید علی بیگ ‘ ڈپٹی سیکرٹری عبد الرزاق خان ، امیر ضلع ڈاکٹر نور الحق ، نائب امرا ضلع سید سلطان روم، نذر محمد برکی ، قیم ضلع راشد خان و دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ نوید علی بیگ نے کہا کہ بدل دو نظام کے سلوگن کے ساتھ 21تا 23نومبر مینار پاکستان پر انسانوں کا سمندر جمع ہوگا ، جہاں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن ظلم کے جاری نظام کے خلاف جدوجہد کو تیز کرنے کا لائحہ عمل دیں گے ، انہوں نے کہا کہ ہر گھر تک اجتماع عام کی دعوت کو پہنچانا تمام ذمے داران پر لازم ہے ، ہر گھر اور ہر فرد تک پہنچ کر جماعت اسلامی اور اجتماع کا پیغام پہنچائیں ۔ اور نوجوانوں کو اجتماع عام میں زیادہ سے زیادہ شریک کرائیں ۔ ڈپٹی سیکرٹری عبد الرزاق خان نے کہا کہ اجتماع عام انقلا ب کی نوید ثابت ہوگا ، یہاں سے ملک بھر میں نظام ظلم کی تبدیلی کی تحریک شروع ہوگی ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس کی بھر پور تیاری کریں اور اجتماع کا پیغام ملک کے کونے کونے تک پہنچائیں ۔امیر ضلع ڈاکٹر نور الحق نے کہا کہ کراچی میں سب سے بڑا قافلہ ضلع سائٹ غربی سے اجتماع عام میں شرکت کرے گا ہماری تیاریاں مکمل ہیں مزید کوشش کریں گے کہ اجتماع عام میں سب سے زیادہ شرکت کو یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے تمام مہمانانوں اور شرکا کا شکریہ ادا کیا ۔
نائب امیر جماعت اسلامی کراچی نوید علی بیگ، ڈپٹی سیکرٹری کراچی عبد الرزاق خان ، امیر ضلع ڈاکٹر نورالحق، قیم ضلع راشد خان اجتماع عام کے سلسلے میں مومن آباد چوک پر جماعت اسلامی ضلع سائٹ غربی کے ممبرز کنونشن سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی عبد الرزاق نے کہا کہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں