اسلام آباد: خودکش حملہ آور کہاں سے آیا تھا؟ ابتدائی رپورٹ آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
تحقیقاتی اداروں نے اسلام آباد کچہری خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی۔
رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور باجوڑ میں رہائش پزیر تھا، جو جمعے کے روز اسلام آباد آیا اور پیر ودھائی سے موٹر سائیکل پر جی الیون کچہری پہنچا تھا۔
ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خودکش حملہ آور نے چادر اوڑھی ہوئی تھی۔
آئی جی اسلام آباد نے جوڈیشل کمپلیکس خودکش دھماکے کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے میں 8 کلو گرام تک بارودی مواد اور بال بیرنگز استعمال کیے گئے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی کچہری میں آج ہوئے خود کش دھماکے کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آ گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک جو شواہد اکٹھے کیے گئے ان کے مطابق حملہ آور ایک ہی تھا، ایک موٹر سائیکل اور گاڑی کو مشکوک تصور کیا جا رہا ہے۔
آئی جی اسلام آباد نے بتایا ہے کہ کیمروں کی بیک ٹریکنگ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، فارنزک، سی ٹی ڈی، انویسٹی گیشن، سیف سٹی اور حساس ادارے شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ آج اسلام آباد میں واقع جی الیون کچہری کے باہر بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج کے خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید ہوئے ہیں۔
پمز اسپتال منتقل کیے جانے والے دھماکے کے زخمی افراد کی تعداد 30 ہے، جبکہ زخمیوں میں سے 4 سے 5 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
ذرائع کے مطابق دھماکے کی جگہ سے مبینہ خودکش حملہ آور کا سر بھی مل گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق خودکش حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار ہو کر کچہری آیا تھا جس نے پولیس موبائل کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خودکش حملہ ا ور اسلام ا باد کے مطابق
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔