ملک بھر میں ای کورٹس نظام کے لیے لائحہ عمل تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251112-01-8
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں ملک بھر میں ای کورٹس نظام کے لیے لائحہ عمل تشکیل دیا گیا۔ اجلاس میں عدالتی نظام کو زیادہ شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے مختف امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں جسٹس محمد علی مظہر، ہارون رشید، بیرسٹر علی ظفر سمیت مختلف اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدلیہ کا ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن عوامی مفاد پر مبنی اصلاحی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس عمل میں شامل کیا جائے گا۔ اگست2026ء تک پاکستان کی تمام عدالتیں سولر انرجی پر منتقل کی جائیں گی۔ اس حوالے سے چیف جسٹس نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کو اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی ہدایت دی۔ علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ای لائبریریز، خواتین سہولت مراکز، صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے بھی مکمل ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات آئینی عدالت سنے گی،نیب قانون میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ نیب مقدمات نہیں سن سکتی،نیب کے تمام مقدمات آئینی عدالت منتقل ہو گئے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سنایا۔
مزید :