کراچی:

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے مستحکم رہی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر تنزلی کا شکار رہی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خام تیل کی عالمی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے رحجان سے ملکی درآمدی بل بڑھنے کے خدشات اور غیرملکی کمپنیوں کی جانب سے زرمبادلہ کی صورت میں اپنے منافع کی ترسیلات کی طلب بڑھنے سے انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کو  ڈالر کی قدر اتارچڑھاو کے بعد بغیر کسی تبدیلی کے مستحکم رہی۔

معیشت، ریونیو اور ادارہ جاتی اصلاحات، آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کی اگلی قسط سمیت کلائمیٹ فنانسنگ منظور ہونے کی توقعات پر انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا اور ایک موقع پر ڈالر کی قدر 21پیسے کی کمی سے 280روپے 56پیسے کی سطح پر بھی آگئی۔

انٹربینک مارکیٹ میں وقفے وقفے سے بیرونی و درآمدی ادائیگیوں سمیت مختلف نوعیت کی طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 280روپے 77پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر ایک پیسے کی کمی سے 281روپے 80 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مارکیٹ میں ڈالر کی قدر انٹربینک مارکیٹ میں

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ