غزہ استحکام فورس کا قیام: امریکا نے قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کردی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ استحکام فورس کے قیام کے لیے نئی ترمیم شدہ قرارداد پیش کر دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس فورس کو ایک بورڈ آف پیس کے تحت قائم کیا جائے گا، جس کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
غزہ استحکام فورس کے بورڈ کے مختلف ذیلی ادارے قائم کیے جائیں گے، جو غزہ میں معاشی بحالی کے پروگرام اور غیر ریاستی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے اقدامات کی نگرانی کریں گے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، امریکی مسودے میں صدر ٹرمپ کا مکمل 20 نکاتی امن منصوبہ شامل ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ مصر میں ٹرمپ کی موجودگی میں غزہ کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس میں غزہ کے انتظام کو ٹیکنو کریٹس کے سپرد کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ تاہم فلسطینی تنظیم حماس نے کہا تھا کہ غزہ کا انتظام فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے سپرد کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔