ججز کیخلاف بیانات پر ایمان مزاری کیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
ایمان مزاری—فائل فوٹو
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ ججز کے خلاف بیانات پر ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کر دی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے حافظ احتشام کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کی۔ عدالتِ عالیہ نے درخواست خارج کرنے کا 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بھی جاری کر دیا۔
نیشنل پریس کلب کے باہر 27 ستمبر کو ایمان مزاری سے منسوب تقریر کے متن کو بھی عدالتی فیصلے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے متنازع ٹوئٹ کیس، ایمان مزاری کے شوہر ہادی علی چٹھہ گرفتارعدالت کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے مطابق ایمان مزاری کی ججز سے متعلق تقریر حقائق کے بر خلاف اور توہینِ عدالت ہے۔
تفصیلی فیصلے کے مطابق توہینِ عدالت 3 قسم کی ہوتی ہیں، سول، کریمنل اور جوڈیشل توہینِ عدالت، موجودہ درخواست عدالتی حکم عدولی نہیں بلکہ عدالت کو اسکینڈلائز کرنے سے متعلق جوڈیشل توہینِ عدالت کی ہے۔
عدالت کا تفصیلی فیصلے میں کہنا ہے کہ ایمان مزاری سے منسوب الفاظ سنی سنائی بات یا رائے سے متعلق ہیں جو آزادیٔ اظہارِ رائے کےآئینی حق میں آتے ہیں، ایمان مزاری نے اس عدالت کے کسی جج کا نام نہیں لیا، نہ ہی ٹرائل کورٹ کے کسی جج کو نام لے کر ٹارگٹ کیا۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری نے صرف عمومی انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا، ایسا کوئی مواد نہیں جس سے ثابت ہو کہ ایمان مزاری نے عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے جان بوجھ کر ایسا کہا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ توہینِ عدالت کا مقدمہ صرف اسی صورت بنتا ہے جب عدلیہ کو بد نام کرنے کا واضح ارادہ ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: تفصیلی فیصلے میں ایمان مزاری
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔