عدلیہ کا کردار بڑا تاریک رہا، ان ججز کا ضمیر دہائیوں سے سویا ہوا تھا، وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
عدلیہ کا کردار بڑا تاریک رہا، ان ججز کا ضمیر دہائیوں سے سویا ہوا تھا، وزیر دفاع WhatsAppFacebookTwitter 0 14 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عدلیہ کا کردار بڑا تاریک رہا، ان ججز کا ضمیر دہائیوں سے سویا ہوا تھا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ میں کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتا جس سے تلخی کا ماحول بنے۔ انہوں نے کہا کہ دو ججزنے استعفے دیے۔ نوازشریف کی حکومت ختم ہوئی تو ہماری عدلیہ نے کیا رول ادا کیا وہ بتاتا ہوں۔ پاناما کیس شروع ہوئے تو ثاقب نثار نے 2 بینچ تشکیل دیے۔ جسٹس اعجاز الاحسن اور دیگر ججز ان میں شامل ہیں ۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال کے بینچ نے کہا نااہلی تاحیات ہوگی۔ اس کے بعد ایک اور بینچ بنا جس نے قرار دیا کہ کوئی سزا یافتہ شخص سیاسی جماعت کی سربراہی نہیں کرسکتا۔ سوموٹو اختیار کا معاملہ آیا تو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ نے فیصلہ دیا۔ ایک اور فیصلہ دیا گیا جس میں کہا گیا سوموٹو اختیار چیف جسٹس کے پاس ہے۔
وزیر دفاع نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مزید کہا کہ کل پارلیمنٹ کی ترمیم کے بعد 2 ججز کی غیرت جاگی، لیکن جب کینگر بنے اور نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا، اس وقت کسی جج کی غیرت نہیں جاگی۔ جس دن نواز شریف کے خلاف کیس ہوتا تھا یہ ججز اپنے گھر والوں کو بھی بلالیتے تھے کہ کیسے ہم نواز شریف کیخلاف فیصلہ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا کردار بڑا تاریک رہا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے ایک ترمیم پاس کی ہے، جس سے آئین کی ہیت ٹھیک ہوئی ہے۔ میں صرف اطہر من اللہ صاحب کے کردار پر روشنی ڈالوں گا، وہ جنرل مشرف کی کابینہ میں شامل تھے۔ ان کی والدہ جنرل ضیا کی مجلس شوریٰ میں شامل تھیں۔ ان کی غیرت اس لیے جاگی کہ ان کی اجارہ داری ختم ہوئی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس ایوان کی طاقت یہ ہے کہ یہ سپریم ہے۔ ان ججز کا ضمیر دہائیوں سے سویا ہوا تھا۔ آدھی رات کو 52قوانین پاس کیے تھے، اس وقت ان اراکین اسمبلی کی غیرت کہاں تھی جب اسمبلی کوتوڑا گیا؟۔ یہی لوگ دہشتگردوں کو تحفظ دینے والے بھی بنے ہوئے ہیں۔ یہ پاکستان کے وفادار ہیں یا دہشتگرڈوں کے؟۔ یہ مسئلہ آہستہ آہستہ سیٹل ہوگا اور ہوبھی رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2 دھماکے ہوئے ہیں ایک وانا میں جہاں 600 سے زائد بچے تھے۔ اسلام آباد دھماکے کے تمام سہولت کار پکڑے گئے ہیں۔ ان کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ یہ دہشتگردی کے ساتھ کھڑے ہیں یا دہشتگردوں کے ساتھ۔ ان کا عمل گواہی دیتا ہے یہ اپنے مفادات کے ساتھ کھڑے ہیں، اداروں کے ساتھ نہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ عمران خان اور اس کا پورا ٹبر ڈکیتیوں میں ملوث نکلا۔ جتنی ڈکیتیاں انہوں نے کی ہیں، پاکستان کی تاریخ میں کسی نے نہیں کیا۔ مسلح افواج پاکستان کے تحفظ کے لیے کھڑی ہیں۔ ہم نے 4 دن لگائے ترمیم میں ،انہوں نے ایک گھنٹے میں 52ترامیم کیں۔ آج یہ ججز شاعری کرتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپیپلزپارٹی نے فیصل راٹھور کو وزیراعظم آزاد کشمیر کےلئے نامزد کردیا پیپلزپارٹی نے فیصل راٹھور کو وزیراعظم آزاد کشمیر کےلئے نامزد کردیا اسلام آباد کو کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنانے کیلئے ایک اور اہم سنگ میل عبور اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم پاکستان کا دورہ کرینگے وفاقی آئینی عدالت کے 6 ججز کی تقرری، 3 نے حلف اٹھا لیا ستائیسویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ، صدارتی آرڈر جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ کی غیرت
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔