پاکستان کسٹمز نے 2 کروڑ 5 لاکھ روپے مالیت کے 20 ہزار کلو چائنا نمک کی اسمگلنگ ناکام بنادی
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
پاکستان کسٹمز نے ایک بڑے اسمگلنگ اسکینڈل کو ناکام بناتے ہوئے 20 ہزار کلو چائنا نمک ضبط کرلیا۔ ایف بی آر کے مطابق ضبط شدہ چائنا نمک کی مالیت 2 کروڑ 5 لاکھ روپے ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے ہمالیائی گلابی نمک کو بیلجیم میں عالمی ایوارڈ
اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن نے ولیکا چورنگی کراچی کے ایک گودام پر چھاپہ مارا، جہاں سٹرک ایسڈ (Citric Acid) کے لیبل والے بیگ چھپائے گئے تھے۔ ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا کہ زیادہ تر بیگوں میں چائنا نمک اور کچھ میں اصل سٹرک ایسڈ موجود تھا۔ پوری کھیپ کو ایران سے درآمد شدہ سٹرک ایسڈ ظاہر کیا گیا تھا۔
پاکستان کسٹمز نے 20 ہزار کلو چائنا نمک اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔ نمک کی مالیت 2 کروڑ 5 لاکھ روپے ہے۔ نمک ولیکا چورنگی کے ایک گودام میں چھپایا گیا تھا۔ ایف بی آر@AmirSaeedAbbasi @asifbashirch pic.
— Media Talk (@mediatalk922) November 14, 2025
تفصیلی جانچ کے دوران 800 بیگ چائنا نمک اور 100 بیگ اصل سٹرک ایسڈ کے برآمد ہوئے۔ ضبط شدہ سامان کو گودام منتقل کرکے نمونہ جات تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا نمک کم کھانا بھی بیماریوں کو دعوت دیتا ہے؟
ایف بی آر نے کہا ہے کہ وہ اسمگلنگ کی روک تھام اور قومی معیشت کو غیر قانونی تجارت سے محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
20 ہزار کلو چائنا نمک اسمگلنگ اسکینڈل ایف بی آر پاکستان کسٹمز کراچی ولیکا چورنگی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 20 ہزار کلو چائنا نمک اسمگلنگ اسکینڈل ایف بی ا ر پاکستان کسٹمز کراچی ولیکا چورنگی ہزار کلو چائنا نمک پاکستان کسٹمز سٹرک ایسڈ ایف بی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔