وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین نے عہدے کا حلف اٹھالیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
جسٹس امین الدین خان نے آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے جسٹس امین الدین سے عہدے کا حلف لیا، تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی اور وفاقی وزراء بھی شریک تھے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت پاک بحریہ اور فضائیہ کے سربراہ بھی تقریب میں شریک تھے۔ اس کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور اٹارنی جنرل منصور عثما ن اعوان بھی تقریب میں شریک تھے۔جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس ہیں۔ آئینی معاملات سے متعلق تمام مقدمات آئینی عدالت ہی دیکھے گی۔1984 میں یونیورسٹی لا کالج ملتان سے ایل ایل بی کیا، 1985 میں باقاعدہ پریکٹس کا لائسنس حاصل کرکے وکالت شروع کی، 1987 میں لاہور ہائیکورٹ اور 2001 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔لاہور ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے مختلف جامعات کے سینڈیکٹ کے رکن رہے، بہاولپور، ملتان اور لاہور بینچ میں ہزاروں دیوانی مقدمات کے فیصلے کیے اور 21 اکتوبر 2019 کو سپریم کورٹ کے جج تعینات ہوئے۔ جسٹس امین الدین سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کے پہلے سربراہ بھی بنے۔گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر صدر پاکستان نے جسٹس امین الدین کی بطور چیف جسٹس آئینی عدالت تقرری کی منظوری دی تھی۔ذرائع کے مطابق آئینی عدالت کے ججز کی تقریب حلف برداری کے لیے اسلام آبادہائیکورٹ کے ججز اور ایڈمن بلاک کے درمیان اوپن ایریا میں انتظامات کیےگئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت کے 6 ججز اسلام آباد ہائی کورٹ میں حلف اٹھائیں گے، آئینی عدالت کے سربراہ جسٹس امین الدین دیگر ججز سے حلف لیں گے۔قبل ازیں آئینی عدالت کے سربراہ جسٹس امین الدین ایوان صدر میں حلف اٹھائیں گے، حلف برداری تقریب کے لیے ممکنہ وقت 11 بجے مقرر کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری آئینی عدالت کے سربراہ سے حلف لیں گے، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزراء بھی تقریب حلف برداری میں شریک ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جسٹس امین الدین آئینی عدالت کے سپریم کورٹ کے سربراہ چیف جسٹس کے پہلے کورٹ کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔