عمران خان کے اقتدار میں آتے ہی آئینی ترامیم واپس ہوں گی، اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ایک بار پھر حالیہ آئینی ترامیم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح اعلان کیا ہے کہ عمران خان کے دوبارہ اقتدار میں آتے ہی 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کو فوری طور پر واپس لیا جائے گا
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے موجودہ پارلیمنٹ کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی قانون سازی کسی صورت عوامی اعتماد کی نمائندگی نہیں کرتی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ موجودہ ایوان کو قانون سازی کا اختیار نہیں، اس لیے جو ترامیم منظور کی جا رہی ہیں وہ نہ صرف ناقص ہیں بلکہ انتہائی عجلت میں کی جانے والی مشق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں تبدیلی کوئی معمولی معاملہ نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے چند گھنٹوں کی بحث یا اچانک اجلاس کے ذریعے نمٹایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا قانون میں ترمیم اسی طرح ہوتی ہے کہ پہلے ایک شکل میں پیش کی جائے اور پھر فوری طور پر تبدیل کر دی جائے؟ ان کے مطابق یہ طرزِ قانون سازی نہ آئینی روایت کے مطابق ہے اور نہ ہی جمہوری اقدار سے ہم آہنگ ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والے خود ایوانوں سے غیر حاضر رہتے ہیں لیکن کل مخصوص اجلاس میں شریک ہونا ضروری سمجھا۔
اسد قیصر نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں، خصوصاً جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے مستعفی ہونے کے فیصلے کو وہ خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کے بقول وکلا برادری اور مزدور تنظیموں کو بھی عدلیہ کی مضبوطی کے لیے اصولی مؤقف پر ڈٹ جانا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز