data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان سمیت متعدد اہم مسلم ممالک نے امریکا کی اُس قرارداد کی حمایت کا اعلان کیا ہے جو غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور جامع امن منصوبے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں جاری ہونے والے مشترکہ بیان کے مطابق پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، اردن اور ترکیہ ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے امریکی مسودے کی اصولی حمایت کی ہے۔

ان ممالک نے واضح کیا کہ یہ اقدام اُس امن منصوبے کا حصہ ہے جو 29 ستمبر کو پیش کیا گیا تھا اور بعد ازاں شرم الشیخ میں اس کی منظوری دی گئی۔ مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کو حقیقت میں بدلنا اور ایک مستقل فلسطینی ریاست کے قیام کی بنیاد رکھنا ہے۔

ان ممالک نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ سلامتی کونسل جلد اس قرارداد کی منظوری دے گی تاکہ خطے میں ایک قابلِ عمل اور پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔ مزید برآں یہ کہ  بین الاقوامی فورس کی تعیناتی نہ صرف غزہ میں شہریوں کے تحفظ کو مضبوط کرے گی بلکہ امدادی رسائی کو بھی محفوظ بنائے گی، جو اس وقت سب سے بڑا انسانی مسئلہ ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے، گرتی ہوئی خوراک کی فراہمی، پینے کے پانی کی کمی اور طبی سہولیات کی تباہی نے صورتحال کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے اور عالمی برادری کا کردار اب محض بیانات سے آگے بڑھنا چاہیے۔

دوسری جانب امریکا نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں جاری غیر مستحکم جنگ بندی کو مضبوط بنانے کے لیے اس قرارداد کی منظوری دے، تاہم اس عمل میں ایک اہم رکاوٹ روس کی جانب سے پیش کی گئی علیحدہ قرارداد ہے، جس نے امریکی کوششوں کو چیلنج کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں طاقت کی سیاست ایک بار پھر فلسطینی بحران کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آ رہی ہے، جہاں ویٹو اختیار رکھنے والے ممالک اکثر انسانی ضرورت سے زیادہ اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔

امریکی نمائندوں کے مطابق واشنگٹن کی قرارداد صدر ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کا عملی فریم ورک ہے، جسے شرم الشیخ میں متعدد ممالک نے اعتماد کے ساتھ قبول کیا۔ اس منصوبے کے تحت دو سالہ مینڈیٹ پر غور کیا جا رہا ہے، جس میں غزہ کے لیے عبوری حکومتی ڈھانچہ  اور قیام امن کے لیے بورڈ آف پیس  قائم کیا جائے گا، جس کی قیادت صدر ٹرمپ کے پاس ہوگی۔

مجوزہ منصوبے میں ایک خصوصی عالمی فورس کا تصور بھی شامل ہے، جو غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر فعال کرے گی، شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے گی اور امدادی سرگرمیوں کیلئے محفوظ ماحول فراہم کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قرارداد کی ممالک نے کے لیے

پڑھیں:

ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی

سری لنکا کی حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں تعینات قونصل جنرل سری لنکا سنجیوا پٹیوالا نے میڈیا سے گفتگومیں بتایا کہ سری لنکن حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی جس کے بعد سری لنکا جانے والے پاکستانیوں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے سری لنکا جانے والے ویزہ کی درخواست آن لائن دے سکتے ہیں۔

قونصل جنرل نے بتایا کہ پاکستان اور سری لنکن کے دوطرفہ تعلقات اہم ہیں، حکومت پاکستان نے 100 سری لنکن اسٹوڈنٹس کوعلامہ اقبال یونیورسٹی میں اسکالرشپ دی ہے جو ایک مثبت اقدام ہے۔

انہوں نے کاہ کہ پاکستان سری لنکا کےدرمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پرسن 2005 میں دستخط ہوئے تھے لیکن تاحال دونوں ملکوں میں ٹریڈ بیریئرز موجود ہیں۔

قونصل جنرل نے مزید کہا کہ پاکستان سری لنکا درمیان درمیان دفاعی تعلقات بھی اہم ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی