Jasarat News:
2026-07-24@06:03:52 GMT

مرحوم پیر محمد کالیہ کی خدمات

اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پیر کے دن… پیر محمد جیتے گا۔ جیتے گا بھئی جیتے گا۔ پیر محمد جیتے گا۔ ووٹ دو میزان کو، بچالو پاکستان کو۔ ان گرجدار نعروں کی گونج میں پیر محمد کالیا صاحب کراچی کے حلقہ نمبر 7 سے 1970 میں جماعت اسلامی کی طرف سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے تھے جمعیت علماء پاکستان کی طرف سے ایک بھاری بھر کم شخصیت اور ان کے صدر مولانا شاہ احمد نورانی اور پیپلزپارٹی کی طرف سے جناب سوداگر درویش میدان میں تھے پیر محمد کالیہ 28 سالہ ہر دلعزیز نوجوان رہنما اور ایک کامیاب اور جذباتی مقرر تھے ایک طویل مہم جوئی، انتخابی کشمکش اور جان توڑ مقابلے کے بعد وہ چند ہزار ووٹوں سے رہ گئے۔ ان کی ہار کے بارے میں بی بی سی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ قابل اور ڈگریاں رکھنے والا نوجوان امیدوار پیر محمد کالیا اور ملک کے چوٹی کے وکیل اے کے بروہی کو قوم نے سمجھا نہیں اور ہرا دیا۔ اس الیکشن میں میمن برادری نے ان کا بڑا ساتھ دیا۔ وہ خلوص محبت اور للہیت کے پیکر تھے جذبے اور حوصلہ سے کام کرنے کا عزم رکھتے تھے وہ ایک نیک بخت اور رحم رل انسان تھے اور اپنے سینے میں غریب اور مسکین کا درد رکھتے تھے۔ اس لیے انتخابات کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی سے تعاون اور حمایت کا سلسلہ برابر جاری رکھا لیکن خود کو میمن برادری کی خدمت اور اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں کے لیے وقف کر دیا۔ میمن برادری نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ وہ بانٹوا میمن برادری سے تعلق رکھتے تھے اس لیے اس کی سرگرمیوں سے وابستہ ہوگئے۔ برادری کے غریب اور مشکلات میں پھنسے ہوئے افراد کی خدمت میں رات دن مصروف رینے لگے بانٹوا میمن برادری میں نوجوانوں کی شادی کے موقع پر پگڑی اور جہیز کی ہندوانہ رسم کے خلاف نیک اور صالح نوجوانوں کے ساتھ ملکر بانٹوا میمن اصلاحی انجمن کی بنیاد رکھی۔
پگڑی اور جہیز کے لیے خطیر رقم جمع کرنا لڑکی کے والدین کو مشکل ہوتا تھا اس کو ختم کرانے کے لیے بھرپور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے اجتماعی تحریک چلائی۔ اس کے نتیجے میں کئی نوجوانوں نے پگڑی کے بغیر شادی کی اور کئی نوجوانوں نے پگڑی کی رقم اپنے سسرال کو واپس کی۔ پیر محمد صاحب نے ایسے نوجوانوں کے اعزاز میں بڑے ہال میں برادری کی طرف شاندار استقبالیہ منعقد کیا اور اس کے خلاف اجتماعی ماحول بنایا ان کی مخلصانہ کوششوں کی وجہ سے یہ رسم اب جان توڑ چکی ہے، اسی عرصے میں بانٹوا برادری کے انتخابات ہوئے اور ان کو صدر منتخب کر لیا گیا۔ اسی لیے بانٹوا میمن برادری میں تعلیم و تربیت، فرسودہ رسم و رواج کی اصلاح اور برادری کے غریب خاندانوں کی امداد کی وجہ سے ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آل پاکستان میمن فیڈریشن کی رفاہی اور سماجی خدمات میں بھی آپ پیش پیش رہے۔ دنیا بھر کی میمن برادری کو متحد کرنے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اے آر وائی کے عبد الرزاق یعقوب صاحب نے تحریک شروع کی تو پیر محمد صاحب نے بھی آگے بڑھ کر اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ اس طرح ورلڈ میمن آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی گئی۔ انہوں نے ڈبلو ایم او کے آئین اور قواعد و ضوابط کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کیا۔ وہ ڈبلو ایم او کے مرکزی سیکرٹری جنرل رہے اور انہوں نے ڈبلو ایم او کے پاکستان چیپٹر کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں انہوں نے ڈبلو ایم او کے ذریعے برادری کے نوجوانوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے تعلیم اور خصوصاً اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالر شپ کا موثر نظام بنایا۔ برادری کے بے گھر اور پگڑی کے مکانوں میں رہائش پذیر غریب عوام کے لیے ری ہبیلیٹیسن رہائشی اسکیموں پر کام کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے کئی ممالک کے دورے بھی کیے۔ پیر محمد کالیا صاحب 1942 میں گجرات ہندوستان کے قصبے بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہجرت کرکے پاکستان آیا انہوں نے مدرسہ اسلامیہ اسکول کھارادر سے میٹرک پاس کیا، ایس ایم کالج سے بی کام کیا۔ اس وقت سی اے کا امتحان چند طلبہ ہی پاس کرسکتے تھے انہوں نے اچھی طرح سے پاس کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایم اے، ایل ایل بی، اے سی ایم اے اور ایف سی آئی ایس اور دیگر کئی ڈگریاں حاصل کیں۔ اسی لیے ان کا شمار پاکستان کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور قابل شخصیات میں ہوتا ہے۔ 1967 میں ان کا نکاح برادری کی ایک معزز ایڈوانی فیملی کی صاحبزادی سے ہوا۔ ان کے دو بیٹے سعد اور زید ہیں دونوں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔
وہ اس عرصے میں انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ آف پاکستان کے صدر رہے۔ ایس اے ایف اے (ساوتھ ایشین فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹ) کے بھئی صدر رہے۔ پاکستان میں فنانس اور اکاؤنٹنگ کے پیشہ کو منظم کرنے اور صاف شفاف بنانے میں ان کا بڑا کردار ہے وہ عالمی تنظیم آئی ایف اے سی سے بھی وابستہ رہے اور اکاؤنٹنگ کے عالمی معیارات بنانے میں بھی ان کی قابلیت اور تجربہ کو استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کارپوریٹ سیکرٹری کا امتحان برطانیہ سے پاس کیا پھر دیگر کارپوریٹ سیکرٹریز کے ساتھ ملکر پاکستان میں انسٹیٹیوٹ آف کارپوریٹ سیکرٹریز پاکستان کی بنیاد رکھی اور ان کو اس کا بانی صدر منتخب کیا گیا۔ انہوں نے دیگر پیشہ وارانہ دوستوں کے ساتھ ملکر میمن پروفیشنل فورم قائم کیا۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں ان کی بڑی خدمات ہیں کورنگی میں میمن ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کھارادر اور فیڈرل ایریا میں میمن اسکولز اور کالجز کے قیام اور ان کی ترقی میں ان کا بڑا کردار ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر ان کو متعدد پاکستانی اور بین الاقوامی فورمز پر ایوارڈز اور میڈلز سے نوازا گیا۔ مزید برآں انہوں نے اپنے خاندان کے اکثر نوجوانوں اور ہم جیسے متعدد شاگردوں کو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بنوایا۔
پیر محمد صاحب کے مزاج میں دعوت و تربیت کا عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا میٹرک پاس کرکے پیر محمد صاحب اور دیگر صالح اور فعال نوجوانوں نے ملکر مسلم یوتھ لائبریری قائم کی، لائبریری سے بڑی تعداد دینی کتب کا اجراء کیا جاتا تھا۔ اس طرح یہ لائبریری علاقے کے نوجوانوں کی صلح و آشتی کا مرکز بن گئی۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مسلم چائلڈ سرکل قائم کیا گیا اس کے تحت بچوں کی ہفتہ روزہ نشستیں منعقد کی جاتیں، تحریری اور تقریری مقابلوں کے ذریعے ان کی صلاحیتوں کو جلا دی جاتی۔ پیر محمد کالیا اس کے روح رواں تھے مزید برآں انہوں نے محمدی مسجد میٹھادر میں قرآنی حلقہ قائم کیا تھا۔ روزانہ بعد نماز عشاء قرآن پڑھنا اور ترجمہ کرکے سمجھنا اور عربی پڑھانے کا سلسلہ پیر محمد صاحب چلایا کرتے تھے جس میں اہل محلہ شریک ہوتے تھے۔ اس سلسلے میں اقبال سرمہ والا صاحب اور راقم (محمد حسین محنتی) ان کے شاگرد رشید تھے۔ انہوں نے تمام طلبہ کو عموماً اور ہم کو خصوصاً پڑھایا لکھایا تعلیم اور زندگی میں آگے بڑھایا۔ ہماری امتحانات میں پوزیشنیں آئیں، سی اے کیا دین اور دنیا میں آگے بڑھے۔ ان سب میں ان کی تربیت کا بڑا حصہ تھا۔ ہم انہیں کے ساتھ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوئے اور ان کے الیکشن کے دنوں میں جماعت اسلامی سے منسلک ہوئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج تک اس کی رضا کے راستے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔
پیر محمد کالیا صاحب اپنی شائستگی متانت علمی گہرائی اور عملی دیانت کے لیے جانے جاتے تھے دھیمے لہجے میں ان کی گفتگو ہمیشہ نظریاتی اور عملی توازن کے ساتھ ہوتی تھی۔ ان کے میل جول اور رویہ میں عاجزی انکساری اور فروتنی جھلکتی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو صاحب مال بھی بنایا تھا لیکن اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ ان کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ عملی اور پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی کا اصل جوہر خدمت اخلاص دیانت اور علم میں پوشیدہ ہے پیر محمد کالیا صاحب نوجوانوں کے آئیڈیل تھے۔ انہوں نے نوجوانوں اور خصوصاً میمن برادری میں صالح اور باصلاحیت افراد کی ایک کھیپ تیار کی جو آج بھی معاشرے میں مثبت اور فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم پیر محمد کالیا صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور جنت کے اعلی درجات عطا فرمائے۔ آمین

محمد حسین محنتی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈبلو ایم او کے پیر محمد صاحب بانٹوا میمن برادری کے اکاو نٹنٹ انہوں نے کے ساتھ قائم کی جیتے گا کے بعد اور ان کے لیے کا بڑا

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن