Jasarat News:
2026-07-24@03:00:10 GMT

شیخ حسینہ: سزائے موت کا فیصلہ!

اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بنگلا دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنا دیا۔ جسٹس محمد غلام مرتضیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی ٹربیونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف دائرمقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیا۔ حسینہ واجد پر قتل پر اکسانا، طاقت استعمال کرنے کا براہ راست حکم دینا، ظلم روکنے میں ناکامی، اور انسانیت کے خلاف جرائم کے سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ شیخ حسینہ کو عمر قید اور دیگر 3 الزامات میں سزائے موت سنائی گئی۔ ٹربیونل کی جانب سے شیخ حسینہ واجد کے خلاف مقدمات کا 453 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ شیخ حسینہ کے خلاف عدالتی فیصلے کے وقت ملک میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور عدالتی فیصلے کے وقت شیخ حسینہ واجد کے گھر کے باہر مظاہرین کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔ بنگلادیشی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ لیک فون کال کے مطابق حسینہ واجد نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے قتل کے احکامات دیے، ملزمہ شیخ حسینہ واجد نے طلبہ کے مطالبات سننے کے بجائے فسادات کو ہوا دی، ملزمہ نے طلبہ کی تحریک کو طاقت سے دبانے کے لیے توہین آمیز اقدامات کیے۔ شیخ حسینہ واجد کو 6 لوگوں کو جلانے کے مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی۔ عدالت نے بنگلادیش کے سابق وزیر داخلہ اسد الزماں کمال کو بھی سزائے موت کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ حسینہ واجد اور سابق وزیر داخلہ اسد الزماں کمال ابھی تک مفرور ہیں، پیشی کے لیے بھیجے گئے متعدد نوٹس کے باوجود دونوں ملزمان کا مفرور ہونا ان کے جرم کا اعتراف ہے، المامون واحد ملزم ہے جو عدالت میں موجود تھے، جولائی میں سماعت کے دوران انہوں نے اعتراف جرم کیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شیخ حسینہ حفاظتی اور تعزیری اقدامات کرنے میں ناکام رہیں، ملزمہ شیخ حسینہ نے الزام نمبر 2 کے تحت ڈرون، ہیلی کاپٹر اور مہلک ہتھیار استعمال کرنے کا حکم دیکر انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔ فیصلے میں عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ عوامی لیگ سیاسی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتی۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد پر انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات میں استغاثہ نے سزائے موت کی درخواست کی تھی۔ واضح رہے کہ حسینہ واجد کے خلاف ملک بھر میں رد عمل کا آغاز اس وقت شروع ہوا جب 1971 کی جنگ لڑنے والوں کے بچوں کو سرکاری نوکریوں میں 30 فی صد کوٹا دیے جانے کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے جن میں 1400 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے کوٹا سسٹم کو ختم کر دیا تھا مگر طلبہ نے اپنے ساتھیوں کو انصاف نہ ملنے تک احتجاج جاری رکھنے اور سول نافرمانی کی کال دی تھی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بنگلادیش میں کوٹا سسٹم کے خلاف طلبہ کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک کے دوران 1400 افراد ہلاک ہوئے۔ شیخ حسینہ واجد 19 سالہ اقتدار کے نتیجے میں ملک کی طویل ترین وزیراعظم رہیں، وہ 2024 میں چوتھی مرتبہ بنگلا دیش کی وزیراعظم منتخب ہوئی تھیں، ان پر سیاسی مخالفین کے خلاف اقدامات کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے اور ان کی حکومت نے جماعت اسلامی بنگلادیش پر پابندی بھی لگائی تھی جسے عبوری حکومت میں عدالت نے ختم کر دیا تھا۔ شیخ حسینہ واجد پرتشدد مظاہروں کے بعد اگست 2024 میں بھارت فرار ہو گئی تھیں۔ حسینہ واجد کے خلاف سنائے گئے سزائے موت کے فیصلے کا بنگلا دیش کے عوام نے زبردست خیر مقدم کیا ہے، جولائی 2024 کے احتجاج کے دوران جاں بحق اور زخمی ہونے والے مظاہرین کے خاندانوں نے فیصلے پر جشن منایا ہے اور اطمینان کا اظہار کیا ہے، ڈھاکا یونیورسٹی میں طلبہ نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور خوشی کا اظہار کیا۔ بنگلا دیش حکومت کے عبوری سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ بنیادی اصول ثابت ہوتا ہے کہ ’’اقتدار سے بالاتر کوئی نہیں‘‘۔ جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش کے سیکرٹری جنرل میاں غلام پرور نے شیخ حسینہ واجد کو سنائی گئی سزائے موت کے فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کیا اور اسے خوش آئند اقدام قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ 18 کروڑ عوام کی امنگوں کو پورا کرتا ہے اور اس سے ظلم، فاشزم، اور اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف ایک اہم عدالتی مثال قائم ہوئی ہے۔ پیر کے روز بنگلا دیش حکومت نے بھارت سے حسینہ واجد کی حوالگی کا باضابطہ مطالبہ کردیا کہ وہ برطرف کی گئی سابق وزیر ِ اعظم شیخ حسینہ واجد کو واپس بھیجے، کیونکہ چند گھنٹے پہلے ہی عدالت نے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم پر پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ حسینہ واجد سے متعلق عدالتی فیصلے سے باخبر ہے۔ جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ بھارت بنگلا دیش کے عوام کے مفاد، جیسے امن، جمہوریت، شمولیت اور استحکام کے لیے ہمیشہ تعاون کرے گا، تاہم بھارت نے یہ نہیں بتایا کہ وہ حسینہ واجد کو واپس کرے گا یا نہیں۔ حسینہ واجد کے خلاف سنائے گئے فیصلے بعد ازاں بنگلا دیشی حکومت کی جانب سے حسینہ واجد کی حوالگی کے مطالبے سے بھارت سخت مشکلات سے کا شکار ہوگیا ہے، بنگلا دیش سے فرار کے بعد حسینہ واجد نے بھارت میں پناہ لی دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ بھی موجود ہے، بھارت کا موقف ہے کہ وہ جمہوریت، امن اور استحکام کی حمایت کرتا ہے اور بنگلا دیش کی منتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہے تاہم عبوری حکومت کے سرابراہ محمد یونس نے بھارت پر الزام عاید کیا ہے کہ ہ وہ شیخ حسینہ کی حمایت کر رہا ہے۔ اگر بھارت حوالگی سے انکار کرتا ہے تو دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ اس امر میں کوئی شعبہ نے کہ حسینہ واجد کے مظالم اور عوام دشمن اقدامات کو بھارت کی آشیر واد حاصل تھی، بنگلا دیشی عوام کا استحصال بھارت کی حمایت اور سرپرستی کے ساتھ کیا گیا۔ بلاشبہ اس امر کی حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کے حسینہ واجد نے اپنے دورِ حکومت میں جس طرح مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا بالخصوص جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش کے رہنماؤں کو جنگی جرائم ٹریبونل قائم کر کے پھانسیاں دیں دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ سیاسی مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن، اپوزیشن رہنماؤں ور کارکنوں کی بلاجواز گرفتاری، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، سیاسی کارکنوں کو غائب کرنا، آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانا، انتخابی دھاندلی، کرپشن، اختیارات کا ناجائز استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سمیت ایسے متعدد جرائم ہیں جن کا حسینہ واجد نے ارتکاب کیا ہے۔ یہ بھی ایک المیہ تھا کہ حسینہ واجد نے جماعت ِ اسلامی کا راستہ روکنے کے لیے ظلم تشدد، اور جبر کا ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا، حتیٰ کہ جماعت اسلامی پر پابندی عاید کی، اس صورتحال میں جو کچھ ہورہا ہے یہ ایک فطری مکافاتِ عمل ہے جس سے مفر ممکن نہیں، حسینہ واجد کے خلاف آنے والا یہ فیصلہ نہ صرف یہ کہ بنگلا دیش کی سیاسی تاریخ کا اہم سنگ میل ہے بلکہ ان عناصر کے لیے بھی ایک پیغام ہے جو عوامی احساسات و جذبات کے برخلاف آئین، قانون اور انصاف کی دھجیاں بکھیر کر عوام کے سروں پر مسلط رہنے کے آرزو مند ہیں۔ بنگلا دیش کے سیاسی افق پر جو کرنیں ابھریں ہیں، امید ہے یہ بنگلا دیش کے عوام کے لیے یہ ایک نئی صبح کا پیغامبر ثابت ہوں گی۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انسانیت کے خلاف جرائم حسینہ واجد کے خلاف شیخ حسینہ واجد کو حسینہ واجد نے کہ حسینہ واجد عدالتی فیصلے سزائے موت کا بنگلا دیش کے کی جانب سے عدالت نے اور ان کے لیے کا حکم خلاف ا کیا ہے اور اس ہے اور

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی