اقوام متحدہ نے پاکستان کی قرارداد برائے حق خود ارادیت متفقہ طور پر منظور کر لی united nation WhatsAppFacebookTwitter 0 19 November, 2025 سب نیوز

نیویارک:(آئی پی ایس) اقوامِ متحدہ کی ایک کمیٹی نے گزشتہ روز اتفاقِ رائے سے پاکستان کی ایک قرارداد منظور کی جس میں ان اقوام اور عوام کے حق خود ارادیت کے جامع عزم کو دوبارہ اجاگر کیا گیا ہے جو اب بھی نوآبادیاتی، غیر ملکی اور اجنبی تسلط کے تحت ہیں۔

پاکستان نے اس موقع پر واضح کیا کہ اقوام متحدہ اپنے مقاصد اور اصولوں کے مرکز میں اس حق کو رکھتی ہے۔

65 ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی یہ قرارداد پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ، سفیر عاصم افتخار احمد نے پیش کی جسے جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی جو سماجی، انسانی اور ثقافتی امور سے متعلق ہے میں اتفاقِ رائے سے منظور کیا گیا۔

یہ قرارداد جسے پاکستان 1981 سے پیش کر رہا ہے دنیا کی توجہ ان عوام کی جانب مبذول کراتی ہے جو اب بھی اپنے ناقابل تنسیخ حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کر رہے ہیں جن میں فلسطین اور کشمیر کے عوام بھی شامل ہیں۔

متوقع ہے کہ یہ قرارداد آئندہ ماہ جنرل اسمبلی سے توثیق کے لیے پیش کی جائے گی۔ قرارداد کے مطابق 193 رکنی جنرل اسمبلی غیر ملکی فوجی مداخلت اور قبضے کی اُن کارروائیوں کی سخت مخالفت کرے گی جو اقوام اور عوام کے حقِ خود ارادیت کو دبانے کا باعث بنتی ہیں اور ایسے اقدامات کے ذمہ دار ریاستوں سے انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرے گی۔

قرار داد پیش کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم احمد نے کہا کہ اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو غیر ملکی قبضے کے تحت رہ رہے ہیں اور جنہیں اس بنیادی آزادی سے محروم رکھا گیا ہے۔

ان کی جائز امنگوں کا اکثر جواب حد سے زیادہ طاقت کے استعمال، ماورائے عدالت قتل، من مانے حراسات، جبری گمشدگیوں رابطے منقطع کرنے، اور آبادیاتی انجینئرنگ کے حربوں جن میں غیر قانونی بستیاں بھی شامل ہیں سے دیا جاتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ حقِ خود ارادیت جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں ایک بنیادی اصول کے طور پر درج ہے، متعدد بین الاقوامی دستاویزات میں بھی تسلیم شدہ ہے، جن میں شہری و سیاسی حقوق کا بین الاقوامی عہد اور معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق کا عہد بھی شامل ہیں۔

قرارداد کے متن کے مطابق جنرل اسمبلی تمام اقوام کے اس حق کی آفاقی تکمیل کی توثیق کرے گی، جن میں نوآبادیاتی، غیر ملکی اور اجنبی تسلط کے تحت رہنے والے عوام بھی شامل ہیں کیونکہ یہ حق انسانی حقوق کی مؤثر ضمانت اور ان کے تحفظ کے لیے بنیادی شرط ہے۔

قرارداد میں غیر ملکی فوجی مداخلت، جارحیت اور قبضے کی مذمت بھی کی گئی ہے، کیونکہ دنیا کے بعض خطوں میں یہ اقدامات عوام کے حقِ خود ارادیت اور دیگر انسانی حقوق کو کچلنے کا سبب بنے ہیں۔

اس قرارداد میں متعلقہ ریاستوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی ممالک اور علاقوں پر اپنی فوجی مداخلت اور قبضہ فوراً ختم کریں اور ہر قسم کے جبر، امتیاز، استحصال اور بدسلوکی کا سلسلہ بند کریں۔

قرارداد میں اُن لاکھوں پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کی حالتِ زار پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا ہے جو ایسے اقدامات کے نتیجے میں اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے، اور اُن کے اس حق کی توثیق کی گئی ہے کہ وہ باعزت اور محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو رضاکارانہ طور پر واپس لوٹ سکیں۔

قرارداد کے مطابق انسانی حقوق کونسل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق خصوصاً حق خود ارادیت کی اُن خلاف ورزیوں پر خصوصی توجہ دے جو غیر ملکی فوجی مداخلت، جارحیت یا قبضے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔

اس کے ساتھ سیکریٹری جنرل سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ آئندہ اجلاس میں اس مسئلے پر رپورٹ پیش کریں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کی رہائی کا فیصلہ عدالتوں کا اختیار ہے: یورپی یونین سفیر عمران خان کی رہائی کا فیصلہ عدالتوں کا اختیار ہے: یورپی یونین سفیر اسرائیل نے جنگ بندی معاہدےکی دھجیاں اڑادیں، آج پھر لبنان پر حملہ کردیا، 13 افراد جاں بحق بھارت دوبارہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے والا تھا،جسکو میں نے روکا، امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے لیے بڑے دفاعی پیکیج کی منظوری دے دی، وائٹ ہاؤس سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی وائٹ ہائوس میں امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے ویزا سسٹم کا اعلان کردیا ، ٹکٹ ہولڈرز جلد اپائنٹمنٹ حاصل کر سکیں گے TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: حق خود ارادیت

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی