مصطفیٰ کمال نے اک بار پھر ،نئے صوبے بنانے کا عندیہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
ایم کیو ایم رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہےکہ صوبے بنانے کے قانون میں بھی آئینی ترمیم ہوسکتی ہے۔ مصطفیٰ کمال نےکہا کہ وزیراعلیٰ کچرا اٹھانے کے ذمہ داربنے ہوئے ہیں، ککون سی صوبائی حکومت یہ کام کرتی ہے؟ اس سال سندھ کو این ایف سی ایوارڈ کے 2400 ارب روپے ملے ہیں جس میں سے کراچی کو 800 ارب روپے ملنے چاہیے تھے مگر 100 ارب بھی نہیں ملے، وفاق کہتا ہے سارے پیسے وزیراعلی کو دے دیے، جائیں وزیراعلیٰ سے لیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا پیپلز پارٹی کہتی تھی زرعی ٹیکس نہیں لگنا چاہیے، آئی ایم ایف نےکان پکڑ کر زرعی ٹیکس لگانے کاکہا تو زرداری صاحب نے پھر اعلان کیا۔ مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ صوبے بنانے کے قانون میں آئینی ترمیم بالکل ہوسکتی ہے اور نئے صوبے کی بات اس وقت کرتے ہیں جب ہمیں حقوق نہیں دیتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے لیے ’’روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی، روڈ سیفٹی کے فروغ اور عوام دوست پولیسنگ کے وژن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے "روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ" قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
روڈ سیفٹی آفیسرز شہر کی اہم اور مصروف شاہراہوں بشمول شاہراہ فیصل ، ماڑی پور روڈ ، کورنگی روڈ اور شاہراہ لیاقت پر تعینات کیے جائیں گے جہاں وہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، شہریوں کو متبادل راستوں اور سفری سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور بروقت مدد کے فرائض انجام دیں گے۔
ترجمان کے مطابق یونٹ کے قیام سے شہریوں کو محفوظ سفری ماحول میں رہنمائی ملے گی ، یہ یونٹ شہریوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دوران سفر پیش آنے والی مشکلات کے فوری حل اور مؤثر رہنمائی میں اہم کردار ادا کریگا۔
یونٹ کا مقصد ٹریفک قوانین ، روڈ سیفٹی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرز ڈرائیونگ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر اور اس میں مزید اضافہ کرنا ہے۔