مصطفیٰ کمال نے اک بار پھر ،نئے صوبے بنانے کا عندیہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
ایم کیو ایم رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہےکہ صوبے بنانے کے قانون میں بھی آئینی ترمیم ہوسکتی ہے۔ مصطفیٰ کمال نےکہا کہ وزیراعلیٰ کچرا اٹھانے کے ذمہ داربنے ہوئے ہیں، ککون سی صوبائی حکومت یہ کام کرتی ہے؟ اس سال سندھ کو این ایف سی ایوارڈ کے 2400 ارب روپے ملے ہیں جس میں سے کراچی کو 800 ارب روپے ملنے چاہیے تھے مگر 100 ارب بھی نہیں ملے، وفاق کہتا ہے سارے پیسے وزیراعلی کو دے دیے، جائیں وزیراعلیٰ سے لیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا پیپلز پارٹی کہتی تھی زرعی ٹیکس نہیں لگنا چاہیے، آئی ایم ایف نےکان پکڑ کر زرعی ٹیکس لگانے کاکہا تو زرداری صاحب نے پھر اعلان کیا۔ مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ صوبے بنانے کے قانون میں آئینی ترمیم بالکل ہوسکتی ہے اور نئے صوبے کی بات اس وقت کرتے ہیں جب ہمیں حقوق نہیں دیتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔