قیدی ملنا نہیں چاہتا تو جیل حکام زبردستی نہیں ملوا سکتے ، سہیل آفریدی کے خط پر عظمیٰ بخاری کا جواب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ اگر کوئی قیدی ملنا نہیں چاہتا تو جیل حکام زبردستی ملاقات نہیں کروا سکتے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خط پر جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جیلوں میں قیدیوں سے ملاقاتیں کروانے سے وزیراعلیٰ پنجاب کا کوئی لینا دینا نہیں۔ مریم نواز کبھی بھی کسی سرکاری افسر کے کام میں مداخلت نہیں کرتیں ۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جیل رولز کے مطابق سیاسی میٹنگز کی اجازت نہیں ہوتی اور جیل سپرنٹنڈنٹ اس حوالے سے فائنل اتھارٹی ہے۔ جیل حکام قیدی کے عزیز و اقارب سے ملاقاتیں کرواتے ہیں جب کہ ملاقاتیوں کے نام قیدی کی طرف سے دیے جاتے ہیں۔
صوبے میں نچلے لیول پر کرپشن پوری طرح کنٹرول میں نہ ہو مگر اب ٹاپ لیول پر ممکن نہیں ہے: مریم نوازشریف
انہوں نے کہا کہاگر کوئی قیدی کسی سے نہیں ملنا چاہتا تو جیل حکام زبردستی اس کی ملاقات نہیں کرواسکتے۔ بانی پی ٹی آئی سے ہفتے میں 2 دن ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ اب تک بانی پی ٹی آئی سے ان کے وکلا کی 420 اور فیملی کے لوگوں کی 189ملاقاتیں ہوچکی ہیں جب کہ بشریٰ بی بی کے اہل خانہ کی ملاقاتیں اس سے الگ ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پھر بھی ہر ہفتے جیل کے باہر جلسہ کیا جاتا ہے۔ سہیل آفریدی ہمیں قانون پڑھانے سے پہلے خود قانون پڑھیں۔ سہیل آفریدی 9مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ کھڑے ہوکر جلسے کرتے ہیں،سرکاری افسران کو دھمکیاں دیتے ہیں۔
سونے کی قیمت میں 2300 روپے اضافہ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی نے کہا کہ جیل حکام
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔