فیصلے کیخلاف اپیل کون سنے گا؟ آئینی عدالت کا اصول طے کرنے کافیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت کا چھوٹا بنچ اپیل سن سکتا ہے یا نہیں؟ وفاقی آئینی عدالت نے اس سوال پر فریقین کے دلائل سن کر اصول طے کرنے کا فیصلہ کرلیا۔آئینی عدالت میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے بیرسٹر گوہر کی اپیل پر سماعت کی۔ وکیل سمیر کھوسہ نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ نے ابتدائی فیصلہ دیا تھا، سپریم کورٹ کے رولز آئینی عدالت نے اپنا لیے ہیں، رولز کے مطابق 5 رکنی بینچ اپیل پر سماعت نہیں کر سکتا۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ فیصلہ تبدیل کرنے کے لیے ہی 7 رکنی سے بینچ زیادہ درکار ہوگا، وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ آئینی عدالت کے جاری کردہ رولز کے نوٹیفکیشن میں ایسا کچھ نہیں لکھا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 189 کے تحت آئینی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ پر لاگو ہوتا ہے کیونکہ یہ عدالت الگ ہے اس لیے ججز کی تعداد کم یا زیادہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا، آئینی عدالت نے خود طے کرنا ہے کہ کتنے ججز اپیل سنیں گے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نوٹس جاری کرنے کی حد تک تو کوئی مسئلہ نظر نہیں آ رہا، عدالت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے خلاف حکومت کو نوٹس جاری کر دیا۔دوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی اور سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کے وکیل سمیر کھوسہ نے وفاقی آئینی عدالت پر اعتراض کیا اور مؤقف اپنایا کہ وفاقی آئینی عدالت کی خودمختاری پر سوالات ہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی ا ئینی عدالت سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت نے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔