جلوس کے دوران نوحہ خوانی، ماتم داری اور سیرتِ حضرت فاطمہ زہراؑ پر روشنی ڈالنے کے لیے خطابات بھی کیے گئے۔ عزاداروں نے اس موقع پر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے مصائب کو یاد کرتے ہوئے گہری عقیدت و احترام کا اظہار کیا۔ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا آئی آر سی امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوا، جہاں عزاداروں کے لیے مجالس اور نیاز کا اہتمام کیا گیا تھا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

یوم شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س)، کراچی میں مرکزی جلوس کا انعقاد، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

یوم شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س)، کراچی میں مرکزی جلوس کا انعقاد، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

یوم شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س)، کراچی میں مرکزی جلوس کا انعقاد، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

یوم شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س)، کراچی میں مرکزی جلوس کا انعقاد، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

یوم شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س)، کراچی میں مرکزی جلوس کا انعقاد، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

یوم شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س)، کراچی میں مرکزی جلوس کا انعقاد، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

یوم شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س)، کراچی میں مرکزی جلوس کا انعقاد، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

یوم شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س)، کراچی میں مرکزی جلوس کا انعقاد، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

یوم شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س)، کراچی میں مرکزی جلوس کا انعقاد، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

یوم شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س)، کراچی میں مرکزی جلوس کا انعقاد، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

یوم شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س)، کراچی میں مرکزی جلوس کا انعقاد، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

یوم شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س)، کراچی میں مرکزی جلوس کا انعقاد، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

یوم شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س)، کراچی میں مرکزی جلوس کا انعقاد، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

یوم شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س)، کراچی میں مرکزی جلوس کا انعقاد، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

اسلام ٹائمز۔ ایام شہادت حضرت بی بی فاطمہ زہرا (س) کی مناسبت سے منائے جانے والے ایامِ فاطمیہ کے موقع پر بوتراب امام بارگاہ سے آئی آر سی امام بارگاہ تک ایک عظیم الشان ماتمی جلوس برآمد ہوا، جس میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی۔ جلوس میں مختلف عزاداری و ماتمی انجمنوں، علما کرام، ذاکرین اور معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔ جلوس کے دوران نوحہ خوانی، ماتم داری اور سیرتِ حضرت فاطمہ زہراؑ پر روشنی ڈالنے کے لیے خطابات بھی کیے گئے۔ عزاداروں نے اس موقع پر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے مصائب کو یاد کرتے ہوئے گہری عقیدت و احترام کا اظہار کیا۔ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا آئی آر سی امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوا، جہاں عزاداروں کے لیے مجالس اور نیاز کا اہتمام کیا گیا تھا۔ امن و امان کے حوالے سے مقامی انتظامیہ اور رضاکاروں نے حفاظتی انتظامات کے سخت ترین اقدامات کیے، جبکہ ریسکیو و میڈیکل ٹیمیں بھی جلوس کے ہمراہ موجود رہیں۔ .

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کراچی میں مرکزی جلوس کا انعقاد یوم شہادت حضرت فاطمہ زہرا ہزاروں عزاداروں کی شرکت امام بارگاہ کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت