امریکا میں تباہ کن برفانی طوفان سے نظام زندگی مفلوج، ہزاروں پروازیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
امریکا کی متعدد ریاستیں شدید برفانی طوفان سے متاثر ہو گئی ہیں، جہاں دو فُٹ سے زائد برف نے عمارتوں، گھروں اور سڑکوں کو سفید چادر میں ڈھانپ دیا ہے۔
مختلف علاقوں میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے جبکہ نیو یارک، الینوائے، مشی گن اور الاسکا شدید سرد موسم کی لپیٹ میں ہیں۔ خراب موسم کے باعث ملک بھر میں ہزاروں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق شکاگو میں نومبر کے مہینے میں سب سے زیادہ برفباری کا نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے، جہاں ائیرپورٹ پر 8.
محکمہ موسمیات نے مزید برفباری، یخ بستہ ہواؤں اور تیز بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ کینساس، نیبراسکا، پینسلوینیا، نیو جرسی اور مشرقی ساحلی ریاستیں بھی برفانی طوفان کی زد میں آنے کا امکان ہے، جہاں 6 انچ یا اس سے زائد برف پڑنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب برطانیہ میں بھی آئندہ ہفتے شدید برفباری کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق 9 اور 10 دسمبر کو انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے مختلف علاقوں میں برفباری کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔