قومی اسمبلی میں البیرونی یونیورسٹی کےقیام کا بل متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزدیسک) قومی اسمبلی میں البیرونی یونیورسٹی کےقیام کا بل 25 فیصد مستحق طلبہ کو مفت تعلیم دینے کی ترمیم سمیت متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ جمعیت علمائے اسلام ف کی عالیہ کامران کی بل میں ترامیم کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں۔
البیرونی انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد بل 2025 ضمنی ایجنڈے کے طور پر پیش کیا گیا تو پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ نے 25 فیصد مستحق طلبہ کو مفت تعلیم دینے کی ترمیم متعارف کرا دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ترمیم کی حمایت کر دی اور بل اس ترمیم سمیت متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
رکن اسمبلی نیلسن عظیم نے راولپنڈی کے اسپتالوں کی صورتحال کا معاملہ اٹھایا تو وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے جواب دیا اسلام آباد میں باہر سے مریضوں کا ان فلو بہت زیادہ ہے ۔ کے پی ، کشمیر اور جی بی سے بھی مریض آتے ہیں ۔ 90 ملین ڈالر باہر سے آئے تھے وہ رقم جناح میڈیکل کمپلیکس پر خرچ کی جائے گی ۔ قومی اسمبلی کا اجلاس 5 دسمبر جمعہ کو دن 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔