پی ٹی آئی کے بانی کی صحت کے متعلق مصدقہ اطلاع جیل سے باہر نکل آئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
سٹی42: اڈیالہ جیل میں قید کی سزا کاٹ رہے پی ٹی آئی کے بانی کی صحت کے متعلق مصدقہ اطلاع جیل سے باہر نکل آئی۔
پی ٹی آئی کے بانی کی بہن عظمیٰ خان نے آج اڈیالہ جیل میں اپنے بھائی عمران خان سے ملاقات کی۔
عظمیٰ خان نے بانی سے ملاقات کے بعد جیل سے باہر آ کر صحافیوں کے سوالات کے جواب مین بتایا کہ ان کے بھائی عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔
صحافیوں سے باتیں کرنے کے بعد بانی کی بڑی بہن عظمی خانہ گور اڈایلہ جیل والی سڑک پر پولیس کی گورکھپور چیک پوسٹ کی طرف روانہ ہو گئیں۔
نمل یونیورسٹی میں دھماکہ؛ سٹوڈنٹس میں بھگدڑ
صحافیوں کے سوالات کے جواب مین عظمیٰ خان کا جواب یہ تھا، "بانی پی ٹی آئی خیریت سے ہیں صحت تو ان کی ٹھیک ہے .
بانی پی ٹی آئی کی صحت کو کیا ہوا تھا؟؟
پی ٹی آئی کے بانی کے مر جانے کی افواہ افغانستان اور انڈیا سے اڑا دی گئی تھی۔ اس افواہ کو پی ٹی آئی کارکنوں نے بھی سوشل میڈیا پر بہت زیادہ ڈسکس کیا، حتیٰ کہ پی ٹی آئی کے چئیرمین اور دوسرے سنجیدہ رہنماؤں نے بھی کہا کہ انہیں بانی کی صحت کے متعلق اطلاعات پر تشویش ہے، انڈیا کے مین سٹریم میڈیا میں عمران خان کے اڈیالہ جیل مین فوت ہو جانے اور ان کی صحت تشویش ناک حالت میں ہونے کی افواہیں شائع ہونے کے بعد اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے میڈیا کو رسمی بیان جاری کیا اور بتایا کہ جیل میں عمران خان کی صحت کو کوئی مسئلہ نہیں، وہ ہمیشہ کی طرح بالکل ٹھیک ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ جیل کی اس رسمی وضاحت کے باوجود پاکستان سے باہر اور سوشل میڈیا مین مرنے کی افواہ کو لے کر چہ مگوئیاں جاری رکھی گئیں،
لاہور ؛ شاہ پور کانجراں میں 3 کروڑ کی ڈکیتی
پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے آج منگل کے روز بانی سے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی ملاقات نہ کروائے جانے پر احتجاج کرنے کے لئے بہت بڑی احتجاجی سرگرمی کا اعلان کر دیا اور کہا کہ وہ پختونخوا کے ہر گاؤں سے بندے جمع کر کے اڈیالہ جیل لائین گے۔ یہ احتجاج آج ہونا تھا۔
آج عظمیٰ خان کی اڈیالہ جیل میں اپنے بھائی عمران خان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے واپس آ کر بتایا کہ عمران خان بالکل ٹھیک ہیں اور ان کی صحت کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
Currency Exchange Rate Tuesday December 02, 2025
Waseem Azmet
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کے بانی اڈیالہ جیل ان کی صحت جیل میں بانی کی سے باہر اور ان
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار