سیاسی بحران کےخاتمے تک حالات بہتر نہیں ہونگے،اسد عمر
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
لاہور:سابق وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے پاکستان کے اندرونی حالات ٹھیک نہیں، معیشت بیٹھ گئی ہے۔ سب کو مل بیٹھ کر سیاسی بحران حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ بھارت کو ہم نے تگڑا جواب دیا پاکستان جیتا ساری دنیا مان گئی۔
اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا 8 کمیٹیاں بنائی جائیں گی جو بتائیں گی کہ معیشت کیسے بہتر ہوگی، حکومت نے ساڑھے 3 سال برباد کر دیے اب کمیٹیاں بنانے کا خیال آیا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک آپ سیاسی بحران ختم نہیں کریں گے حالات بہتر نہیں ہوں گے، سیاسی بحران حل کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک سیاسی جماعتیں ایک پیج پر نہیں آئیں گی دھمکیاں چلتی رہیں گی، اگر قانون کے ساتھ الیکشن کروانے جا رہے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہوگی، صرف اپنی مرضی کے قانون بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
سابق وفاقی وزیر نے ٹریفک قوانین کے بارے میں کہا کہ اگر ٹریفک قوانین کو نافذ کرنے جا رہے ہیں تو یہ بہت اچھی چیز ہے، صرف اپنی مرضی کے قانون نافذ نہیں کیے جانے چاہییں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سیاسی بحران کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔