سندھ پر صوفیا کرام کا خاص کرم کررہا ہے، شفقت علی سولنگی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر)سندھ پر صوفیا کرام اور بزرگوں کا خاص کرم رہا ہے۔ان خیالات کا اظہارڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر (وی اے) حیدرآباد شفقت علی سولنگی نے بھائی خان ویلفیئر ایسوسییشن کی جانب سے سندھ کلچر ڈے کے حوالے سے ویلفیئرکے مرکزی آفس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں۔انجمن تاجران سندھ حیدراباد کے صدر صلاح الدین غوری۔بی کے ڈبلیو کے سرپرست حاجی اشرف علی عباسی۔ صدر عبداللطیف شیخ۔فاؤنڈر جنرل سیکرٹری حاجی محمد یاسین ارائیں۔محمد علی راجپوت۔سینیئر نائب صدر خان افتاب احمد خان۔نائب صدر شاہد راجپوت۔ نائب صدر دوئم حاجی محمد اسماعیل شیخ۔محمد شاہد خان۔ محمد اسماعیل شیخ۔تعلقہ چیئرمین حاجی عبدالحمید مٹھو۔ محمد حنیف شیخ۔ مہا نور۔ نسیم اللہ خان کے علاوہ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ امن اور محبت کا گہوارہ اور سندھ کی تہذیب اور سندھی بولی مہمان نوازی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھی اجرک کا لال رنگ ایثار محبت اور قربانی کا رنگ ہے۔حاجی محمد یاسین ارائیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ کی قدیم تاریخ تہذیب و تمدن اور سندھ کی ثقافت کو اجاگر کرنے میں ہم سب کو اپنا اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ثقافتی دن منانے کا مقصد نوجوان نسل کو سندھ کی تہذیب سے متعلق اگاہی فراہم کرنا ہے۔صلاح الدین غوری نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی ثقافت صدیوں پرانی ہے اس دھرتی نے لازوال قربانیاں پیش کی۔عبداللطیف شیخ و دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ سندھ کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ سندھ سندھ کی
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔