جنید جمشید کو مداحوں سے بچھڑے 9 برس بیت گئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک)معروف نعت خواں اور سابق پاپ گلوکار جنید جمشید کو مداحوں سے بچھڑے آج نو سال گزر گئے۔
3 ستمبر 1964 کو کراچی میں پیدا ہونے والے جنید جمشید نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی مگر موسیقی کے میدان میں قدم رکھتے ہی غیر معمولی شہرت حاصل کی۔
ان کے پہلے ہی البم نے انہیں بلندیوں تک پہنچا دیا جبکہ ان کا مقبول گیت دل دل پاکستان ملک بھر میں ان کی پہچان بن گیا۔
شہرت کے عروج پر 2004 میں انہوں نے موسیقی کو خیرباد کہہ کر خود کو دین کی خدمت اور تبلیغ کے لیے وقف کر دیا۔ 2005 میں انہوں نے اپنا پہلا نعتیہ البم ریلیز کیا جو بے حد پسند کیا گیا۔ 2014 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا۔
مذہبی رجحان کے ساتھ جنید جمشید نے کاروباری میدان میں بھی قدم رکھا اور “جِے ڈاٹ (َ.
7 دسمبر 2016 کو جنید جمشید حویلیاں کے قریب المناک فضائی حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے لیکن ان کی آواز، شخصیت اور پیغام آج بھی ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مکانات کی مسماری پر میرواعظ عمر فاروق کا شدید رنج
مولوی محمد عمر فاروق نے کہا کہ ہر انسانی جان کا ضیاع غلط اور ناقابلِ قبول ہے لیکن کسی ایک شخص کے پُرتشدد عمل کو سب کیلئے اجتماعی سزا کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ میرواعظِ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ چند دنوں کے دوران پورے کشمیر میں نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، پوچھ گچھ اور ہراسانی پر شدید تشویش اور رنج و اضطراب کا اظہار کیا۔ دو ہزار سے زائد نوجوانوں کو مبینہ طور پر "اوور گراؤنڈ ورکرز" یا او جی ڈبیلو ہونے کے الزام میں اٹھایا گیا ہے۔ مشتبہ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ایک پولیس اہلکار کے قتل کے بعد اٹھائے گئے ان اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عسکریت پسندی کے خاتمے کے دعوؤں کے باوجود اس طرح کا واقعہ پیش آنا باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسانی جان کا ضیاع غلط اور ناقابلِ قبول ہے، لیکن کسی ایک شخص کے پُرتشدد عمل کو سب کے لئے اجتماعی سزا کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اس قتل کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیئے، لیکن بے گناہ نوجوانوں اور ان کے اہلِ خانہ کو قربانی کا بکرا بنا کر تکلیف میں مبتلا نہیں کیا جانا چاہیئے۔
مشتبہ عسکریت پسندوں کے مکانات منہدم کرکے ان کے اہلِ خانہ کو بے گھر کرنے کی اطلاعات بھی ایک اور ماورائے عدالت اور غیر منصفانہ اقدام ہے، ایسے اقدامات ناراضی اور غصے کو مزید گہرا کرتے ہیں اور بالآخر الٹا نتیجہ دیتے ہیں۔ کشمیری انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز اور صحافی عرفان معراج کی برسوں کی قید کے بعد ضمانت پر رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے میرواعظ نے امید ظاہر کی کہ ان کی کشمیر واپسی پر عائد پابندیوں پر بھی نظرثانی کی جائے گی تاکہ وہ جلد سرینگر میں اپنے گھروں کو واپس آکر اپنے اہلِ خانہ سے مل سکیں۔ انہوں نے دیگر کشمیری قیدیوں کے لئے بھی راحت کی امید ظاہر کی، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں ضمانت مل چکی ہے لیکن دوسرے مقدمات میں ملوث کئے جانے کے بعد وہ بدستور قید ہیں، اور وہ بھی جن کی ضمانت کی درخواستیں ابھی زیرِ سماعت ہیں۔
نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ اپنے حقیقی مسائل اور تحفظات کے لئے آواز اٹھانے والے نوجوانوں کو سنا جانا چاہیئے اور ان کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیئے، نہ کہ انہیں پولیس کارروائی اور طاقت کا سامنا کرنا پڑے۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ نہتے مظاہرین کو پیلٹ لگنے کی اطلاعات ان تباہ کن اثرات کی دردناک یاد دہانی ہیں جو گزشتہ دہائیوں میں سینکڑوں کشمیری پیلٹ گنوں کے باعث جھیل چکے ہیں، جن سے ان کی آنکھیں اور زندگیاں ہمیشہ کے لیے متاثر ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا افسوسناک ہے کہ اب دہلی کے طلبہ کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کا استعمال کسی شکایت یا مسئلے کو حل نہیں کر سکتا، خواہ وہ دہلی میں ہو یا کشمیر میں، مسائل کے حل کا واحد راستہ بات چیت، جوابدہی اور باہمی رابطہ ہے۔