26 اور27ویں آئینی ترمیم کیخلاف آل پاکستان وکلا کنونشن کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کے خلاف لاہور ہائیکورٹ بار نے آل پاکستان وکلا کنونشن طلب کی ہے جس کا انعقاد لاہور ہائیکورٹ بار کے جاوید اقبال اڈیٹوریم میں کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اجلاس میں سینیٹر حامد خان، سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد، صدر لاہور ہائیکورٹ بار آصف نسوانہ شریک ہوئے۔
سیکریٹری کراچی بار ایڈووکیٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم سے جو پورے ملک میں انگاری لگ گئی ہے یہ ڈی چوک جائے گی۔ یہ جنگ جو آپ نے شروع کی ہے اس جنگ کے خلاف ہیں ہم۔
انہوں نے کہا کہ آج چولستان میں ایک تحریک شروع ہو رہی ہے۔ اگر آپ کے گھر پانی نہ پہنچے تو سمجھ لیں کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے آپ کے حق پر ڈاکا ڈالا جا چکا ہے۔
سابق سیکرٹری حیدر آباد بار ایڈووکیٹ فیصل نے کنونشن سے اپنے خطاب میں کہا کہ محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ 313 بھی نکلیں تو جیت مقدر ہوتی ہے۔ ظلم کیخلاف نکلنا پڑتا ہے۔ آپ کیوں نہیں نکلتے۔ سندھ میں کوئی وکیل پر ہاتھ ڈالتا ہے تو ساری قیادت سڑکوں پر ہوتی ہے۔ یہاں خاموشی کیوں ہے۔ پورا پاکستان آپ کی خاموشی دیکھ رہا ہے۔ کیا یہ خاموشی مصلحت کے تحت تو نہیں ہے۔ پورا ملک ایک سازش کے تحت پنجاب سے نفرت کر رہا ہے اور آپ کی خاموشی اس پر مہر لگا رہی ہے۔
سابق نائب صدر لاہور ہائیکورٹ بار ربیعہ باجوہ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ صدر سندھ ہائیکورٹ بار حسیب جمالی جن طاقتوں کے خلاف جیت کر آئے ہیں ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ آج جیسے حکمرانوں نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے سرنڈر کیا ہے ہم اس کے خلاف ہیں۔ وکلا سرنڈر نہیں کریں گے۔
ربیعہ باجوہ نے مزید کہا کہ ایمان مزاری کے خلاف جو کچھ ہوا ہم اس کی مذمت کریں گے۔ جیسے ایک وکیل کا قتل ہوا ہم ان ملزمان کے خلاف آخری حد تک جائیں گے۔ بانی پی ٹی آئی کو انسانی بنیادی حقوق کی پامالی کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ ہمیں اس پر انٹرنیشنل فورمز پہ جانا چاہیے۔
سابق صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ریاست علی آزاد نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ آئین اور قانون کی بات کی ہے۔ آج سپریم کورٹ کے اختیارات کو ختم کر دیا گیا۔ پورے پاکستان میں وکلا تحریک چلے گی۔ ہمیں آئین کی بحالی کے لیے کھڑا ہونا ہو گا۔
صدر کراچی بار ایڈووکیٹ عامر نواز وڑائچ نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس کی اتنی جرات کیسے ہوئی کہ ایک وکیل کے گھر گھس کر اس کو شہید کیا۔ اس لیے ایسا ہوا کیونکہ ہماری لیڈر شپ بک چکی ہے۔ آج اگر ملزمان کو چھوڑ دیا تو کل کو آپ قتل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں ترمیم کے بعد چیمبرز مافیا سے جان چھڑانے کا کہہ کر اپنے وفادار پیدا کیے گئے۔ کنٹرولڈ جوڈیشری آ چکی ہے، انصاف کا قتل ہو چکا ہے۔ آج ججز کو زد و کوب کیا جا رہا ہے۔ آج لوگوں کو مس گائیڈ کیا جا رہا ہے۔
عامر نواز وڑائچ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایک جسٹس نے سندھ میں آرڈر پاس کیا کہ ایس پی کو چینج کیا جائے، اس جسٹس کو ہی ٹرانسفر کر دیا گیا۔ آج کوئی جوڈیشری نہیں ہے سب غلام ہیں۔
ممبر سندھ بار کے پی لغاری نے کہا کہ 28ویں ترمیم کی تیاری ہو رہی ہے۔ ہم لوگ جو یہاں چیخ رہے ہیں، ہم پاکستان کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ نظام کو ٹھیک کرو۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل لاہور ہائیکورٹ بار نے کہا کہ کے خلاف رہا ہے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔