26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کے خلاف لاہور ہائیکورٹ بار نے آل پاکستان وکلا کنونشن طلب کی ہے جس کا انعقاد لاہور ہائیکورٹ بار کے جاوید اقبال اڈیٹوریم میں کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اجلاس میں سینیٹر حامد خان، سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد، صدر لاہور ہائیکورٹ بار آصف نسوانہ شریک ہوئے۔

سیکریٹری کراچی بار ایڈووکیٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم سے جو پورے ملک میں انگاری لگ گئی ہے یہ ڈی چوک جائے گی۔ یہ جنگ جو آپ نے شروع کی ہے اس جنگ کے خلاف ہیں ہم۔

انہوں نے کہا کہ آج چولستان میں ایک تحریک شروع ہو رہی ہے۔ اگر آپ کے گھر پانی نہ پہنچے تو سمجھ لیں کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے آپ کے حق پر ڈاکا ڈالا جا چکا ہے۔

سابق سیکرٹری حیدر آباد بار ایڈووکیٹ فیصل نے کنونشن سے اپنے خطاب میں کہا کہ محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ 313 بھی نکلیں تو جیت مقدر ہوتی ہے۔ ظلم کیخلاف نکلنا پڑتا ہے۔ آپ کیوں نہیں نکلتے۔ سندھ میں کوئی وکیل پر ہاتھ ڈالتا ہے تو ساری قیادت سڑکوں پر ہوتی ہے۔ یہاں خاموشی کیوں ہے۔ پورا پاکستان آپ کی خاموشی دیکھ رہا ہے۔ کیا یہ خاموشی مصلحت کے تحت تو نہیں ہے۔ پورا ملک ایک سازش کے تحت پنجاب سے نفرت کر رہا ہے اور آپ کی خاموشی اس پر مہر لگا رہی ہے۔

سابق نائب صدر لاہور ہائیکورٹ بار ربیعہ باجوہ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ صدر سندھ ہائیکورٹ بار حسیب جمالی جن طاقتوں کے خلاف جیت کر آئے ہیں ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ آج جیسے حکمرانوں نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے سرنڈر کیا ہے ہم اس کے خلاف ہیں۔ وکلا سرنڈر نہیں کریں گے۔

ربیعہ باجوہ نے مزید کہا کہ ایمان مزاری کے خلاف جو کچھ ہوا ہم اس کی مذمت کریں گے۔ جیسے ایک وکیل کا قتل ہوا ہم ان ملزمان کے خلاف آخری حد تک جائیں گے۔ بانی پی ٹی آئی کو انسانی بنیادی حقوق کی پامالی کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ ہمیں اس پر انٹرنیشنل فورمز پہ جانا چاہیے۔

سابق صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ریاست علی آزاد نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ آئین اور قانون کی بات کی ہے۔ آج سپریم کورٹ کے اختیارات کو ختم کر دیا گیا۔ پورے پاکستان میں وکلا تحریک چلے گی۔ ہمیں آئین کی بحالی کے لیے کھڑا ہونا ہو گا۔

صدر کراچی بار ایڈووکیٹ عامر نواز وڑائچ نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس کی اتنی جرات کیسے ہوئی کہ ایک وکیل کے گھر گھس کر اس کو شہید کیا۔ اس لیے ایسا ہوا کیونکہ ہماری لیڈر شپ بک چکی ہے۔ آج اگر ملزمان کو چھوڑ دیا تو کل کو آپ قتل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں ترمیم کے بعد چیمبرز مافیا سے جان چھڑانے کا کہہ کر اپنے وفادار پیدا کیے گئے۔ کنٹرولڈ جوڈیشری آ چکی ہے، انصاف کا قتل ہو چکا ہے۔ آج ججز کو زد و کوب کیا جا رہا ہے۔ آج لوگوں کو مس گائیڈ کیا جا رہا ہے۔

عامر نواز وڑائچ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایک جسٹس نے سندھ میں آرڈر پاس کیا کہ ایس پی کو چینج کیا جائے، اس جسٹس کو ہی ٹرانسفر کر دیا گیا۔ آج کوئی جوڈیشری نہیں ہے سب غلام ہیں۔

ممبر سندھ بار کے پی لغاری نے کہا کہ 28ویں ترمیم کی تیاری ہو رہی ہے۔ ہم لوگ جو یہاں چیخ رہے ہیں، ہم پاکستان کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ نظام کو ٹھیک کرو۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل لاہور ہائیکورٹ بار نے کہا کہ کے خلاف رہا ہے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن