بلوچستان میں شدید سردی، ہلکی بارش اور برفباری کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
کوئٹہ: بلوچستان میں شدید سردی کی نئی لہر داخل ہو گئی ہے اور محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور سخت سرد رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی بلوچستان میں رات اور صبح کے اوقات میں درجہ حرارت نقطۂ انجماد کے قریب یا اس سے بھی نیچے رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ، زیارت، پشین، چمن، قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ سمیت متعدد شمالی علاقوں میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہے گا جبکہ چند مقامات پر ہلکی بارش اور پہاڑی علاقوں میں ہلکی برفباری ہو سکتی ہے، اس تبدیلی کے بعد صوبے کے پہاڑی علاقوں میں سردی کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے جس سے شہریوں، مسافروں اور مقامی آبادی کو خاص احتیاط کی ضرورت ہوگی۔
آج صبح ریکارڈ کیے گئے درجہ حرارت کے مطابق کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت صفر ڈگری سینٹی گریڈ رہا جبکہ قلات اور زیارت میں منفی 2 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ چمن میں کم از کم 4، ژوب میں 3، سبی میں 9، تربت میں 14، اور نوکنڈی میں 9 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ صوبے کے ساحلی علاقوں میں بھی خنکی بڑھ گئی ہے اور گوادر میں درجہ حرارت 18 جبکہ جیوانی میں 12 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شدید سردی کے پیش نظر گرم کپڑوں کا استعمال یقینی بنائیں جبکہ بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ محکمے نے مسافروں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ پہاڑی راستوں پر سفر کرتے وقت موسم کی صورتحال سے باخبر رہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل علاقوں میں
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔