دنیا کے عظیم ترین ناول نگاروں میں لیو ٹالسٹائی کا نام ہمیشہ سرفہرست رہے گا۔ روس کے اس بے مثال ادیب نے اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف عالمی ادب کو نئی جہت عطا کی بلکہ انسان، اخلاقیات، معاشرت اور جنگ جیسے موضوعات کو ایسی گہرائی اور جامعیت کے ساتھ پیش کیا کہ بعد کے تمام فکشن نگار اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
ٹالسٹائی کی شخصیت ایک طلسماتی، پیچیدہ، متنوع اور ہمہ گیر دنیا رکھتی ہے—ایک ایسا ادیب جس میں فلسفیانہ گہرائی، اخلاقی سخت گیری، روحانی بے چینی، اور معاشرے کے کمزور طبقوں سے بے پناہ ہمدردی بیک وقت موجود تھیں۔ اْن کی تخلیقات — خصوصاً ’وار اینڈ پیس‘، ’اینا کارینینا‘ اور ’دی ڈیٹھ آف ایوان ایلیچ‘ — صرف ادبی شاہکار نہیں بلکہ انسان اور زندگی کے بنیادی سوالات کا ایسا تجزیہ ہیں جس میں صدیاں گزر جانے کے باوجود تازگی برقرار ہے۔
شاہانہ پس منظر سے فکری بغاوت تک
لیو نکولاوِچ ٹالسٹائی 1828ء میں روس کے ایک بڑے اور متمول جاگیردار خاندان میں پیدا ہوئے۔ یاسنایا پالیانا ان کی جائے پیدائش ہی نہیں بلکہ زندگی بھر ان کی فکری گھٹی، تخلیقی آماجگاہ اور روحانی سکون کا مرکز رہی۔ کم سنی ہی میں ماں باپ کے سائے سے محروم ہو جانے کے باوجود گھر کا ماحول علم، تہذیب اور اشرافیانہ نزاکتوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹالسٹائی نے بچپن ہی میں مطالعہ، مشاہدہ اور تحریر کی جانب غیر معمولی دلچسپی دکھائی۔
کیڈٹ اسکول اور پھر یونیورسٹی کی تعلیم ادھوری رہ گئی، لیکن عملی زندگی کا آغاز فوج سے ہوا۔ قفقاز کے محاذ پر ان کی خدمات نے انہیں جنگ کی ہولناکیوں سے روشناس کرایا، اور یہی تجربہ بعد ازاں ان کے ناولوں میں حقیقت پسندی کے ساتھ جھلکتا ہے۔ فوجی زندگی نے ایک طرف انہیں شہرت دی، دوسری طرف دل میں انسان دوستی اور ظلم کے خلاف نفرت کے نقوش مزید گہرے کیے۔
شخصی تضادات
ٹالسٹائی کی شخصیت بظاہر تضادات سے بھری ہوئی ہے، لیکن یہی تضادات ان کی عظمت بنتے ہیں۔ وہ اشراف زادے بھی تھے اور کسانوں کے دکھ درد کے سب سے بڑے علمبردار بھی۔ وہ دنیا کے عظیم ترین ناول نگار ہیں مگر خود ناولوں اور ادب کو کبھی کبھار وقت کا ضیاع بھی کہتے رہے۔
وہ مذہب کے ناقد بھی تھے اور اخلاقی روحانیت کے داعی بھی۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو انسان دوستی اور اخلاقی ذمہ داری کا شدید احساس تھا۔ ٹالسٹائی کے مطابق زندگی کا حقیقی مقصد سچائی، محبت، عدم تشدد، اور انسان کی خدمت ہے۔ یہی نظریہ آگے چل کر گاندھی، مارٹن لوتھر کنگ اور دیگر تحریکوں کا فکری سرمایہ بنا۔
ادبی عظمت اور شاہکار تخلیقات
’’وار اینڈ پیس‘‘ نہ صرف ٹالسٹائی کا بلکہ عالمی ادب کا سب سے بڑا ناول سمجھا جاتا ہے۔ نپولین کی روس پر یلغار کے پس منظر میں لکھا گیا یہ ناول جنگ، امن، محبت، خاندان، سیاست، تاریخ، اور انسانی نفسیات کے ایسے پہلو بیان کرتا ہے جو کسی اور ادیب کے بس کی بات نہیں۔ کرداروں کی نفسیاتی گہرائی، واقعات کی وسعت، اور زندگی کی حرکیات کو بیان کرنے کا انداز ٹالسٹائی کو ایک منفرد تخلیق کار ثابت کرتا ہے۔ یہ ناول صرف ایک جنگی داستان نہیں بلکہ ’’انسان کیا ہے؟‘‘ اور ’’زندگی کا مفہوم کیا ہے؟‘‘ جیسے سوالات کا ادبی تجزیہ ہے۔
’’اینا کارینینا‘‘ کو دنیا بھر میں محبت کے المناک انجام کی بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ ٹالسٹائی نے اس ناول میں انسانی خواہشات، سماجی پابندیوں، ازدواجی زندگی، اخلاقی کشمکش اور معاشرتی دوغلے پن کو جس نفاست سے برتا ہے، وہ انہیں دوستوئیفسکی اور فلابیر جیسے عظیم ادیبوں کی صف سے بھی آگے لے جاتا ہے۔ ناولٹ ’’دی ڈیٹھ آف ایوان ایلیچ‘‘ دکھاتا ہے کہ انسان اپنی زندگی گزارتے گزارتے اصل زندگی سے کتنا دور ہو جاتا ہے۔
موت کے قریب پہنچ کر ایوان ایلیچ کو احساس ہوتا ہے کہ اس نے پوری زندگی سماجی معیاروں کی غلامی میں گزار دی۔ ٹالسٹائی کا پیغام واضح ہے: ’’اصل زندگی وہ ہے جو انسان سچائی اور محبت کے ساتھ گزارے۔‘‘ ٹالسٹائی نے صرف ناول نہیں لکھے بلکہ اخلاقیات، تعلیم، زراعت، مذہب اور سماجی اصلاح پر بھی بے شمار تحریریں چھوڑیں۔ ان کے مذہبی نظریات نے روسی چرچ کے ساتھ تنازع پیدا کیا، حتیٰ کہ 1901ء میں انہیں چرچ سے خارج کر دیا گیا۔
مگر ٹالسٹائی کے نزدیک سچائی چرچ سے زیادہ مقدس تھی۔
ادبی اسلوب اور تخلیقی انفرادیت
ٹالسٹائی کے اسلوب کی چند خصوصیات بہت نمایاں ہیں۔ ان کی تخلیقات حقیقت نگاری کی اعلیٰ مثال پیش کرتی ہیں۔ وہ کرداروں کو خون، گوشت کے انسان بنا کر پیش کرتے ہیں، ان کی نفسیات، خواہشات، کمزوریاں اور تضادات سب حقیقت کے آئینے میں نظر آتے ہیں۔ان کے فکشن میں فطرت اور ماحول کی جیتی جاگتی تصویریں نظر آتی ہیں۔ روس کے میدانوں، جنگلوں اور دیہات کی منظرکشی ٹالسٹائی کا خاصہ ہے۔ ان کے الفاظ میں فطرت بھی کردار بن جاتی ہے۔ ان کی تحریر کی ایک اہم خصوصیت نفسیاتی تجزیہ بھی ہے۔ کردار کے ذہن اور دل میں کیا چل رہا ہے — ٹالسٹائی اسے اس باریکی سے بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کردار کے ذہن میں داخل ہو جاتا ہے۔ ان کی ہر تحریر میں اخلاقی جہت نمایاں ہے، مگر یہ اخلاقیات خشک نہیں بلکہ انسان دوست اور فطری ہیں۔
ٹالسٹائی جب ادبی دنیا میں آئے تو روسی ادب پر گوگول، تورگینیف اور دستوئیفسکی جیسے بلند قامت نام موجود تھے۔ لیکن ٹالسٹائی نے اپنے تخلیقی دائرے اور اسلوب کی وسعت کے باعث سب سے منفرد اور ممتاز مقام حاصل کیا۔ دوستوئیفسکی انسان کی باطنی اور روحانی پیچیدگیوں کے بڑے آرٹسٹ تھے، لیکن ٹالسٹائی نے انسان کو اس کے پورے سماجی، نفسیاتی، اخلاقی اور تاریخی کردار کے تناظر میں پیش کیا۔ اگر دوستوئیفسکی ’’روح‘‘ کے ناول نگار ہیں تو ٹالسٹائی ’’زندگی‘‘ کے ناول نگار۔ تورگینیف کی نثر لطیف اور شاعرانہ ہے، مگر ٹالسٹائی کی تخلیقات میں جو وسعت، حرکیات اور زندگی کی نبض کا احساس ملتا ہے، وہ روسی ادب میں کہیں اور نہیں ملتا۔ ٹالسٹائی کو بالزاک، فلابیر، ڈکنز، اور گوئٹے جیسے عالمی ادیبوں کے برابر بلکہ ان سے آگے سمجھا جاتا ہے۔ ان کی فکری گہرائی، کرداروں کی وسعت اور انسانی تجربے کی جامعیت انہیں عالمی ادب کا سب سے بڑا حقیقت نگار بنا دیتی ہے۔
فکری تحریک اور عالمی اثرات
ٹالسٹائی کے افکار نے ادب، فلسفے، سیاست اور سماجیات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کے عدم تشدد کے نظریات نے مہاتما گاندھی، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور نیلسن منڈیلا جیسے رہنماؤں کی تحریکوں کو سمت دی۔ وہ انسانوں کے درمیان مساوات اور بھائی چارے کے سب سے بڑے مبلغ تھے۔ روس کے عام کسانوں کے لیے ان کی ہمدردی نے انہیں عوامی محبوبیت بھی عطا کی۔ ان کی تعلیمات آج بھی معاشرتی انصاف، اخلاقی ترقی اور روحانی سکون کے باب میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹالسٹائی صرف ایک ادیب نہیں بلکہ ایک عالمی اخلاقی رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔
زندگی کے آخری برسوں میں ٹالسٹائی مکمل سادگی اختیار کر چکے تھے۔ شاہانہ زندگی ترک کر کے وہ ایک مسافر کی طرح روس بھر میں گھومتے پھرتے، انسانوں میں بھائی چارے اور اخلاقی اصلاح کا پیغام دیتے۔
1910ء میں بیماری کے باعث ایک ریلوے اسٹیشن آسٹاپو میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی موت بھی ان کی زندگی کی طرح ایک علامت بن گئی — ایک ایسا مسافر جو پوری زندگی سچائی کی تلاش میں رہا۔ ٹالسٹائی نے جو وراثت چھوڑی ہے، وہ صرف ناولوں اور کہانیوں کی صورت میں نہیں بلکہ ایک ایسے انسانی نظریے کی شکل میں ہے جو انسانیت، محبت، اخلاقیات اور انصاف کا درس دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹالسٹائی آج بھی جیتا جاگتا، بولتا ہوا ادیب ہے — جس کے ہر لفظ میں زندگی کی سانسیں محسوس ہوتی ہیں۔
لیو ٹالسٹائی کا شمار اْن چند ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب کو صرف تفریح یا جمالیاتی اظہار تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے انسانی شعور کی ترقی، اخلاقی بیداری اور معاشرتی اصلاح کا وسیلہ بنا دیا۔ ان کی تخلیقات میں زندگی کا تنوع، انسان کی پیچیدگی، اور فطرت کی ہم آہنگی ایک ایسے ہمہ گیر انداز میں نظر آتی ہے کہ وہ آج بھی ہر نسل، ہر معاشرے اور ہر قاری کے لیے نئے معانی پیدا کرتی ہیں۔ اپنے وقت کے ادیبوں میں ٹالسٹائی اس لیے منفرد ہیں کہ انہوں نے دنیا کو صرف کہانی نہیں، بلکہ ’’انسان‘‘ دکھایا — اس کی کمزوریوں، عظمتوں، ناکامیوں اور امیدوں سمیت۔ ان کا مقام اس لیے بلند ہے کہ وہ صرف ایک بڑے ناول نگار نہیں بلکہ ایک عہد ساز مفکر بھی تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی تخلیقات ناول نگار نہیں بلکہ کہ انسان زندگی کی زندگی کا انسان کی کے ساتھ بلکہ ان جاتا ہے روس کے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔