لاہور، کراچی (خصوصی نامہ نگار، کامرس رپورٹر) پنجاب اسمبلی میں فیلڈ مارشل کی بطور چیف آف دی ڈیفنس فورسز تعیناتی پر خراج تحسین کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چودھری کی پریس کانفرنس کی بھی بھرپور تائید اور حمایت کی گئی۔ حکومت نے صوبائی موٹر وہیکل آرڈیننس  سْتھرا پنجاب اتھارٹی  پتنگ بازی ریگولیشن آرڈیننس  پولیس آرڈر ترمیمی بل زراعت، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی ترمیمی بل ایوان میں پیش کئے، جنہیں 2 ماہ کیلئے متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیاگیا۔ پنجاب اسمبلی نے مسودہ قانون (ترمیم) بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پنجاب مسودہ قانون مائینز اینڈ منرلز مسودہ قانون غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کا تحفظ مسودہ قانون (تنسیخ) ریگولرائزیشن آف سروس پنجاب  مسودہ قانون (دوسری ترمیم) ڈرگز، مسودہ قانون (ترمیم) جنگلات شوگر کین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ بل۔ مسودہ قانون (ترمیم) ایمر جنسی سروسز پنجاب آٹزم سکول اینڈ ریسورس سنٹر پنجاب ترمیمی بل بھی کثرت رائے سے منظور کر لئے۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ رکن اسمبلی شعیب صدیقی، شوکت عزیز بھٹی، طاہر جمیل، احسن رضا خان، ذوالفقار علی شاہ اور رانا احمد شہریار خان نے مشترکہ طور پر فیلڈ مارشل کی بطور چیف آف دی ڈیفنس فورسز تعیناتی پر خراج تحسین کی قرارداد پیش کی، جو کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ نادان دوست دشمن ملک بھارت کی زبان بول رہے ہیں۔ فوج اور سپہ سالار پر بے جا تنقید کر کے دشمن ملک کا بیانیہ آگے بڑھا رہے ہیں۔ قبل ازیں اجلاس میں محکمہ ریونیو کالونیز (بورڈ آف ریونیو) اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق سوالات کے جوابات متعلقہ پارلیمانی سیکرٹری نے دئیے، حکومتی رکن امجد علی جاوید کے سوال کے جواب میں سپیکر نے پارلیمانی سیکرٹری پر واضح کیا کہ ایس بی آر سے پنجاب کے موضع جات کے بارے  میں تفصیل لے کر ہاؤس کو دیں، ایس ایم بی آر سے تفصیل لیں کہ پنجاب میں کتنی زمین ابھی استعمال میں ہے، جو موضع جات رکے ہوئے ہیں ان کی وجہ معلوم کر کے بتائیں، افتخار چھچھر کے سوال کا محکمہ کی جانب سے غلط جواب پر سپیکر برہم ہوئے، حکومتی رکن افتخار چھچھر نے کہا کہ میں نے گزارش کی تھی کے ایک موضع میں 360 گھر موجود ہیں، اس کو الگ موضع کا نام دیں، محکمہ کہتا ہے وہاں صرف 50 گھر ہیں، محکمہ کی جانب سے جواب جھوٹ پر مبنی ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری  نے کہا کہ موضع کو الگ نام دینے کی درخواست محکمہ مسترد کر چکا ہے۔ سروے میں وہاں آبادی کم پائی گئی تھی، سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اگر مقامی لوگ اپنی آبادی کا کوئی نام رکھنا چاہتے ہیں تو محکمے کو کیا مسئلہ ہے؟ اب یہ فیصلہ بھی لاہور میں ہو گا؟ لوگوں کو جینے کا حق تو دے دیں۔ اِس دوران اپوزیشن رکن اعجاز شفیع ڈپٹی سپیکر کو فارم47 کی پیداوار کہتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ جس پر ڈپٹی سپیکر نے اعجاز شفیع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی یہی تربیت ہے آپ لوگ کسی کی سنتے نہیں، یہ یاد رکھیں آپ کو کوئی منانے بھی نہیں آئے گا۔ جس پر اپوزیشن رکن شیخ امتیاز نے کہا کہ  ڈپٹی سپیکر صاحب! آپ نے میری رکنیت صرف کورم پوائنٹ آؤٹ کرنے پر معطل کی۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ ایسا نہیں بلکہ آپ کے رویے کی وجہ سے معطل کیا تھا۔ میری جس سیٹ کو آپ کہہ رہے فارم 47، تو یہ سیٹ پچیس سال سے جیتتا آرہا ہوں۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے  کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ بانی پی ٹی آئی امت مسلمہ کا سب سے بڑا لیڈر ہے، پوری دنیا میں فالورز ہیں، کیا آپ ملک کا بھلا کر رہے ہیں کیا پھر ملک کو اندھیری رات میں دھکیل رہے، ہمیں جذبات سے نہیں تاریخ سے سبق لینا چاہیے، ماضی میں ہر مشہور پاپولر لیڈر کو سکیورٹی تھریٹ قرار دیا گیا، کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سکیورٹی تھریٹ نہیں قرار دیا گیا۔کیا بے نظیر کو تھریٹ نہیں قرار دیا گیا۔ نو مئی کے واقعے پر بارہا ہم نے کہا کہ جوڈیشل کمشن بنائیں، حکومتی  ارکان اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران جملے بازی کرتے رہے، جس پر سپیکر نے ارکان کو روک دیا۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ان کی اپنی ماں بہن  ہیں، دوسروں کی کیا ماں بہن نہیں، یہ فوج کو سیاست میں لانا چاہتے ہیں، ہم سیاست میں فوج کو نہیں لانا چاہتے، ڈی جی آئی ایس پی آرکے والد کے حوالے سے گھٹیا کمپین یہ کر رہے ہیں۔ ایجنڈا مکمل ہونے کے بعد اجلاس آج صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ کراچی  سے کامرس رپورٹر کے مطابق  سندھ اسمبلی نے پاک فوج سے اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ۔ قرارداد وزیر داخلہ ، قانون اور پارلیمانی امورضیاء الحسن لنجار نے پیش کی تھی۔ جس میں کہا کہ دفاع وطن کے لئے افواج پاکستان کی خدمات اور قربانیاں پوری قوم کے لئے باعث فخر ہیں۔ دنیا بھر میں پاکستان کا امیج بہتر کرنے میں فورسز کا بھی ہاتھ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ ایک سیاسی رہنما کے اہل خانہ بھارتی چینلز پر غلط بیانی کر رہے یہ حرکت انتہائی دکھ اور شرم کی بات ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ سپیکر نے دیا گیا رہے ہیں

پڑھیں:

حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم  پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔

پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے، بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔

حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور